فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت

by Other Authors

Page 7 of 158

فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 7

کے موافق خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی فرزند حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ السّلام کو مسیح موعود و مہدی معہود بنا کر مبعوث فرمایا پس آپ کی بعثت کے ساتھ یہ بھی لازمی تھا کہ سابقہ انبیاء کی تاریخ اس زمانہ میں بھی دہرائی جاتی اور لوگ انکار کرتے اور آپ کے خلاف بھی کفر کے فتوے لیتے خدا تعالیٰ کی طرف سے جتنے بھی انبیاء آئے اگر اُن کی زندگیوں پر غور کیا جائے تو اُ سے دو دوروں میں تقسیم ہوا پائیں گے۔ایک وہ دور جو انہوں نے دعوی سے پہلے گزارا اور دوسرا وہ دور جو دعویٰ کے بعد گزارتے ہیں۔لیکن لوگوں کے رد عمل کے لحاظ سے ان ہر دو دوروں میں زمین آسمان کا فرق دکھائی دیتا ہے۔نبوت کا دعویٰ کرنے کے بعد ہرا چھی بات لوگوں کی نظروں میں بڑی لگنی شروع ہو جاتی ہے ہم میں سے کون نہیں جانتا کہ دعوی نبوت سے قبل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا لوگوں کے نزدیک کیا مقام تھا۔آپ صلہ رحمی کرتے۔غریبوں اور ناداروں کی مدد کرتے بیواؤں کا خیال رکھتے آپ کو لوگ امین اور صدوق کے لقب سے یاد کرتے لیکن جیسے ہی آپ نے دعونی فرمایا آپ کا ہر کام لوگوں کو بڑا دکھنے انگا۔صدوق اور امین کہلانے والا شخص نعوذ باللہ جھوٹا اور بد دیانت نظر آنے لگا۔جبکہ قرآن کریم اس کے بالمقابل لوگوں کے سامنے یہ چیلنج دیتا رہا اور آج بھی دیتا ہے کہ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُم عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ (یونس آیت ) یعنی پس یقینا اس پہلے میں ایک عرصہ دراز تم میں گزار چکا ہوں کیا پھر بھی تم عقل سے کام نہیں لیتے۔انبیاء کی دعوئی سے پہلے کی زندگی ان کی سچائی کی ایک دلیل ہوتی ہے۔ایک شخص بچپن اور جوانی جن لوگوں میں گزارتا ہے وہ لوگ اس کی زندگی اور اس کے چال چلن سے پوری طرح واقف ہوتے ہیں ایک شخص جس کا بچپن اور جوانی ہے عیب ہو اور کوئی ایک شخص بھی اس کی زندگی پر انگلی نہ اٹھا سکے تو یہ کیسے مکن ہے کہ بڑھاپے میں اس کا کردار بگڑ جائے ایسا ممکن نہیں ہوتا اسی بات کو