فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت

by Other Authors

Page 121 of 158

فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 121

١٢ - صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کے مکفر اور خلافت حقہ اسلامیہ سے مکذب ؟ -۱۷ خدا تعالے کی طرف سے جب بھی کوئی دنیا کی ہدایت کے لئے آیا اور اس نے خدا کے پیغام کو دنیا والوں کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی تو مخالفین نے اس کے مقابل پر شور مچایا اور لوگوں کو منع کیا کہ نہ اس پیغام کو سنو اور نہ ہی پڑھو بلکہ جہاں کہیں ایسی باتیں ہو رہی ہوں تو شور مچا دو اسی بات کا ذکر کرتے ہوئے خدا تعالے قرآن کریم میں فرماتا ہے۔وَقالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَا تَسْمَعُوا لهذا القُرآنِ وَالْغَوا فِيهِ لَعَلَكُم تَغْلِبُونَ ( حم السجدة آيت (۲) یعنی اور کفار نے کہا، اس قرآن کی تعلیم ست سنو اور اس کے سُنانے کے وقت شور مچا دو۔تا کہ اس طرح تم غالب آجاؤ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگ قرآن کریم کی تعلیم سننے سے لوگوں کو نہ صرف منع کیا کر تے تھے بلکہ ڈرایا بھی کہتے تھے اور کہا کہ تے کہ اس کی باتیں مت سنو یہ جادوگر ہے تاریخ اسلام میں ایسے بھی واقعات موجود ہیں کہ لوگ جادو کے خوف سے کہ کہیں بھول چوک سے بھی ہمارے کانوں میں آواز نہ پڑ جائے اس لئے وہ لوگ اپنے کانوں میں روٹی ڈال لیا کرتے تھے راستہ چلتے تو پوچھتے ہوئے کہ کہیں اس طرف محمد صلی اللہ علیہ سلم تو نہیں جار ہے۔آج کے زمانے میں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آکر اُس جنتی جماعت کی بنیاد ڈالی تو اس کے ساتھ ہی ما انا علیہ واصحابی کے نمونے اس لحاظ سے بھی اُن سے پھوٹنے لگے۔علماء نے اعلان کئے کہ مرزا د غلام احمد صاحب قادیانی علیہ السلام) جادوگر ہے نہ اس کی باتیں سنو اور نہ اس کی کتابیں پڑھو بلکہ اس کے سائے سے بھی بچو کہ اس سے بھی جادو ہو جاتا ہے۔آج بھی علماء ہر جگہ یہی راگ الاپتے ہیں کہ احمدیوں سے مت ملوان کی کتابیں مت پڑھو ان سے باتیں