فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 111
چنیوٹ میں قادیانیوں کی عبادت گاہ سے کلمہ طیبہ اور دیگر قرآنی آیات صاف کرائی گئی ہیں۔مقامی پولیس اور انتظامیہ کے افسران نے محلہ راجے والی چنیوٹ میں قادیانیوں کی عبادت گاہ سے پہلے بھی کلمہ طیبہ اور قرآنی آیات کو صاف کر دیا تھا۔لیکن بعد میں قادیانیوں نے دوبارہ لکھ لیا تھا۔" (نوائے وقت لاہور ۳۰ فروری ۱۹۸۵ء) اسی طرح ایک خبر یہ شائع ہوئی کہ: احمدیوں نے کلمہ لا الله إلا الله محمدٌ رَسُولُ اللہ کے بیجز بناکر اپنے سینوں پر آویزاں کرنے شروع کر دیتے ہیں۔ویسے بیجز لگانے والے 19 احمدیوں کو پکڑ لیا گیا۔ان احمدیوں پر الزام یہ تھا کہ انہوں نے کلمہ طیبہ اپنے سینوں پر آویزاں کر لیا تھا۔اور ان افراد کو فیصل آباد پولیس نے تعزیرات پاکستان کی دفعہ (سی (۲۹۸) کے ذریعہ گرفتار کر لیا تھا۔ان افراد کے وکلاء نے یہ بھی بتایا کہ کلمان کے مذہب کا بنیادی ستون ہے۔اور جس صدارتی حکم کے ماتحت ان پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں اس میں بھی کلمہ کو منع نہیں کیا گیا چنانچہ فیصل آباد کے سیشن جج نے ان احمدیوں کو ضمانت پر رہا کہ نے کا حکم دے دیا۔حوالہ روز نامی مغربی پاکستان لاہور ۱۴ام فروری ۱۹۸۵ء) پاکستان کے صدارتی حکم میں سی ۲۹۸ کی دفعہ یہ ہے کہ کوئی بھی احمدی اسلامی اصطلاحات استعمال نہیں کر سکتا ہے کلمہ نہیں پڑھ سکتا۔اذان نہیں کہہ سکتا۔السلام علیکم نہیں کہہ سکتا قرآن کی اشاعت نہیں کر سکتا مسجد کو مسجد نہیں کہہ سکتا اسلامی نام نہیں رکھ سکتا یہی وجہ ہے کہ تمام احمدیہ مسجدوں سے مسجد کا لفظ کلمہ طیبہ قرآنی آیات وغیرہ سب مٹادی گئی ہیں۔قبرستان میں لگے کتبوں سے بسم اللہ تک مٹائی گئی ہے۔کئی احمدیوں کو اذان دینے کے جرم میں کئی لوگوں کو بسم اللہ لکھنے سلام کرنے کے جرم میں قید و بند کی تکلیفیں دی جارہی ہیں۔قارئین غور کریں آغازہ اسلام میں کلمہ کہ سینے سے لگانے والے اس کا درد کرنے والے کون لوگ تھے ؟ اور مسلمانوں کے کلمہ پڑھنے کو جرم قرار