فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 86 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 86

(وَقَالَ) كَانَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ وَعُرْوَةُ وَالشَّعْبِيُّ وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ وَنَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ وَأَبُو الْمَلِيْحِ وَالْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَأَبُوْ مِجْلَزٍ وَمَكْحُولٌ وَمَالِكُ بْنُ عَوْنٍ وَسَعِيْدُ بْنُ أَبِيْ عَرُوبَةَ يَرَوْنَ الْقِرَاءَةَ۔وَكَانَ أَنَسٌ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيُّ يُسَبِّحَانِ خَلْفَ الْإِمَامِ۔وَرَوَىٰ سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ مَوْلٰى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ لِيْ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: اقْرَأْ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ خَلْفَ الْإِمَامِ وَرَوَى سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، وَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ مِثْلَهُ۔اِنْتَہٰی۔{ FR 4668 }؂ (قَالَ الْعَیْنِيُّ) رُوِىَ مَنْعُ الْقِرَاءَةِ … عَنْ ثَمَانِينَ (إِلٰی قَوْلِہٖ) بِمَنْزِلَةِ الْإِجْمَاعِ۔{ FR 5073 }؂ فقیر عرض کرتا ہے۔اوّل وہ آثار اور روایتیں کہاں ہیں۔کن سے مروی ہیں۔آثار کی کون سی کتابوں میں ہیں۔دوئم اَلْقِرَاءَ ة معرفہ ہے عام نہیں پس ہو سکتا ہے کہ اَلْقِرَاءَ ة سے وہی قِرَاءَ ة جَہْرًا یا منازعہ اور مخالطہ اور مخالجہ والی قراءت مراد ہو۔وَ إِذَا جَاءَ الِاحْتِمَالُ بَطَلَ الِاسْتِدْلَالُ۔(قَالَ الْعَیْنِیُّ) ذَكَرَ الشَّيْخُ الْإِمَامُ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَارِثِيُّ السنديوتي۔{ FR 5074 }؂ { FN 4668 }؂ (اورامام بخاریؒ نے کہا:) سعید بن مسیب، عروہ، شعبی، عبیداللہ بن عبداللہ، نافع بن جبیر، ابوملیح، قاسم بن محمد، ابومجلز، مکحول، مالک بن عون اور سعید بن ابی عروبہ قراءت(خلف الامام) کرنے کی رائے رکھتے تھے۔اور حضرت انسؓ اور حضرت عبد اللہ بن یزید انصاریؓ امام کے پیچھے سبحان اللہ کیا کرتے تھے۔اور سفیان بن حسین سے روایت ہے، انہوں نے زُہری سے، زُہری نے حضرت جابر بن عبد اللہ کے آزاد کردہ غلام سے روایت کی۔(انہوں نے کہا) کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا: ظہر اور عصر میں امام کے پیچھے (سورۂ فاتحہ) پڑھا کرو۔نیز سفیان بن حسین سے روایت ہے اور ابن زبیر نے بھی اسی طرح کہا۔(القراءة خلف الإمام للبخاري، بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلْإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ) { FN 5073 }؂ (علامہ عینی نے کہا: امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ) پڑھنے کی مناہی اَسی(80) افراد سے روایت کی گئی ہے۔(ان کے اس قول تک) کہ یہ بمنزلہ اجماع ہے۔(البناية شرح الهداية للعینی، کتاب الصلاة، باب فی صفة الصلاة، أدنى ما يجزئ من القراءة في الصلاة، قراءة المؤتم خلف الإمام) { FN 5074 }؂ جب کوئی شک پیدا ہوجائے تو استدلال باطل ہوجاتا ہے۔(علامہ عینی ؒ نے کہا:) شیخ امام عبد اللہ بن یعقوب حارثی سندیوتی نے ذکر کیا ہے۔(البناية شرح الهداية للعینی، کتاب الصلاة، باب فی صفة الصلاة، أدنى ما يجزئ من القراءة في الصلاة، قراءة المؤتم خلف الإمام)