فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 32 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 32

چودہواں جواب۔یہ آیت کریمہ آیت اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ کے سبب جہریہ نمازوں میں مقتدی کے حق میں آپ کے نزدیک بالاتفاق اپنے عموم پر نہیں۔مخصوص البعض ہے۔اور عام مخصوص البعض کی تخصیص خبرِواحد سے بالاتفاق جائز ہے۔فی الامام (الآیة) خص منہ مدرک الرکوع و العاجز عنہ بلا نزاع فلیخص منہ المؤتمّ۔و کذا قال ابن الھمام۔{ FR 4857 }؂ پندرہواں جواب۔یہ آیت کریمہ مدرک فی الرکوع کے حق میں آپ لوگوں کے نزدیک اپنے عموم پر نہیں بلکہ عام مخصوص البعض۔کیونکہ مدرک فی الرکوع پر آپ کے نزدیک قراءت فرض نہیں اور عام مخصوص البعض کی تخصیص خبرِواحد سے جائز ہے۔قال العینی: خصّ منه المقتدي الذي أدرك الإمام في الركوع فإنه لا يجب عليه القراءة بالإجماع، فيجوز الزيادة عليه حينئذ بخبر الواحد۔{ FR 4575 }؂ اور یہ بات عینی نے جواب میں اس سوال کے فرمائی جو خود عینی نے جواب سے پہلے یوں بیان کیا۔إن قلت قوله عَلَیْہِ السَّلَامُ قراءة الإمام له قراءة معارض بقولهٖ تعالٰى: {فَاقْرَءُوْا} [المزّمل: ۲۱] فلا يجوز تركه بخبر الواحد۔{ FR 4858 }؂ اور صاحب ِامام الکلام نے فرمایا۔لٰکِنَّہٗ (مرجع اس کا آیت فَاقْرَءُوْا وْا ہے)نصّ مخصوص البعض بالاجماع حیث خصّ منہ مدرک الرکوع و العاجز عنہ بلانزاع فلیخص منہ المؤتم بشہادة کثیر { FN 4857 }؂ کتاب ’’امام الکلام‘‘ میں ہے کہ اس (آیت) سے رکوع پانے والا اور قراءت نہ کرسکنے والا الگ کیے گئے ہیں، (اس میں) کوئی اختلاف نہیں۔اس لیے چاہیے کہ مقتدی بھی اس سے الگ سمجھا جائے۔اور ابن ہمام نے (بھی) ایسا ہی کہا ہے۔{ FN 4575 } ؂ عینی نے کہا کہ اس (آیت) سے اُس مقتدی کو جس نے امام کو رکوع میں پالیا الگ کیا گیا کہ اس پر بالاجماع قراءت واجب نہیں۔پس اس طرح خبر واحد سے اس (یعنی قرآن) پر زیادت جائز ہے۔(البناية شرح الهداية للعینی، کتاب الصلاۃ، باب فی صفة الصلاة، ما يجزئ من القراءة في الصلاة، قراءة المؤتم خلف الإمام) { FN 4858 }؂ اگر تم کہو کہ آنحضرتصلی اللہ علیہ و سلم کا قول ہے۔’’امام کی قراءت ہی اس (مقتدی )کی قراءت ہے‘‘ اللہ تعالیٰ کے قول فَاقْرَءُوْا (یعنی پڑھا کرو) کے مخالف ہے اور خبرواحد سے اس (آیت) کا ترک کرنا جائز نہیں۔