فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 195 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 195

در ان است۔ودرقرآن ناسخ و منسوخ محکم تشابہ ظاہر وماول عام خاص مطلق مقید وغیر اینہا است پس چگونہ کتاب خدا برائے رفع اختلاف کافی باشد انتہٰی۔و قال قال علی ؑ اَ نَا کلام اللہ الناطق و ہذا کلام اللہ الصامت۔{ FR 5542 }؂ ترتیب عثمانی کا بگاڑ مزید براں رہا۔یہ تو قرآں غیرُذِی عوجٍ اور عربی مبین کا آپ کے ہاں حال ہے جس کو خدا نے اختلاف مٹانے کو نازل کیا۔قال اللہ وانزل معہم الکتاب بالحق لیحکم بین الناس فیما اختلفوا فیہ اور خدائی کتاب کا ناطق ہونا اس آیت سے ثابت ہے۔ہذا کتابنا ینطق علیکم بالحق اور کلام اللہ الناطق علیہ السلام کے اقوال کی حجیت کا یہ حال ہے کہ تقیہ کا احتمال آپ کے ہر ایک کلام میں موجود ہے دیکھو تَـہْذِیْبُ الْاَحْکَامِ میں ابوجعفر ُطوسی نے جناب امیرؑسے روایت کی۔قال علیہ السلام حرّم رسول اللہ صلعم لحوم الحمرالاَہْلِیَّةِ وَ نِکَاحُ الْمُتْعَةِ۔{ FR 5543 }؂ شیعہ علما کہتے ہیں۔تقیہ کے باعث کہا ہے اور حدیث مَنْ مَاتَ وَلَمْ یَعْرِفْ اِمَامَ زَمَانِہٖ۔{ FR 5544 }؂ احادیث کی معتبر کتابوں میں موجود ہے نہیں پھر اس میں تخصیص امام اور عدم فصل کا ذکر نہیں پھر باتفاق ماوشمااس زمانہ کے امام رسول اللہ صلعم ہیں یا قرآن امام ہے اور کتاب کا امام ہونا مِنْ قَبْلِہٖ کِتَابُ مُوْسٰی اِمَامًامیں دیکھیے۔عبقات میں حدیث غدیر پر زور دیا ہے۔اِلاَّ مصنف ہر ایک سلسلہ سند میں صرف ایک راوی کی مدح کسی کتاب سے نقل کرتا ہے پھر مادح کی مدح پر اس کی کتاب کی مدح میں تطویل کرتا ہےتمام کتاب میں سند کے ُکل رجال کا حال نقل نہیں کرتا پس یادھوکہ میں ہے یا دھوکہ دیتا ہے۔واللہ اعلم فقط۔ابواسامہ نور الدین۔تــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمّ { FN 5542 }؂ اور انہوں نے کہا کہ حضرت علیؓ نے فرمایا: میں اللہ تعالیٰ کا بولتا کلام ہوں اور یہ اللہ تعالیٰ کا خاموش کلام ہے۔{ FN 5543 }؂ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتو گدھوں کا گوشت اور نکاح متعہ حرام کیا۔{ FN 5544 }؂ جو ایسی حالت میں مرا کہ اپنے زمانہ کے امام کو نہ پہچانا……۔