فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 189
لایرث المسلم الکافر { FR 5527 } پر عمل کرنا‘ چور کا پاؤںکاٹنا حالانکہ قرآن میں ہاتھ کا کاٹنا مذکور ہے۔طواف میں قیاساً طہارت کی شرط کا ایزاد کرنا حالانکہ قرآن مطلق ہے مغمیٰ علیہ سے اعمال حج دوسرا ادا کر دے اسے جائز قرار دینا حالانکہ صوم عن المیت میں اَنْ لَیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَاسَعٰی کا عذر ہے عاقلہ پر دیت کا حکم لگانا اور وَلَاتَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخرٰی کا خلاف نہایت ہی ضعیف حدیث سے نماز میں ہنس پڑنے کو ناقض وضو جاننا اور اونٹ کے گوشت کھانے کو ناقض وضوضعیف خبر سے غسل جنابت میں مضمضہ و استنشاق کو فرض کر دینا۔یا اینکہ وضو میں مضمضہ و استنشاق کی فرضیت سے انکار ہے۔موَزہ پر َمسح کرنے میں جواز کا فتویٰ باآنکہ عمامہ پر َمسح سے انکار ہے اور حدیثیں دونوں کی مساوی ہیں اور ایسے ہی صدہا جگہ احادیث سے قرآن پر ایزاد مان کر حنفیہ نے انکار بھی کر دیا اور مقدام بن معدیکرب کی اس حدیث پر خیال نہ کیا جس میں رسول اللہ نے فرمایا۔أَلَا إِنِّيْ أُوْتِيْتُ الْقُرْآنَ وَمِثْلَهٗ مَعَهٗ أَلَا يُوْشِكُ رَجُلٌ … شَبْعَانًا عَلٰى أَرِيكَتِهٖ يَقُوْلُ عَلَيْكُمْ بِالْقُرْآنِ … أَلَا لَا يَحِلُّ لَكُمْ … الْحِمَارِ الأَهْلِيِّ وَلَا كُلُّ ذِيْ نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ … وَلَا لُقَطَةٌ … مُعَاهَدٍ۔{ FR 5528 } میں اب اس خط کو تمام کرتا ہوں۔ربنا آتنا فی الدنیا حسنة و فی الآخرة حسنة وقنا عذاب النّار۔دوسرا خط ایک شیعہ دوست کے نام ابواسامہ۔نور الدین سے اس کے دوست (ع۔و۔ح) کو السلام علیکم دیں۔ایک ایسی تسلی ہے جو اکراہ کا ثمرہ نہیں۔تیرہ سو برس کے جھگڑے ایک خط میں طے ہوں محال ہے۔اِھْدِنَا { FN 5527 } مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوتا۔{ FN 5528 } غور سے سنو! مجھے قرآن دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ اس جیسا ہی دیا گیا ہے۔سنو! عنقریب ایک آدمی اپنے تخت پر متمکن کہے گا: قرآن کریم کو لازم پکڑلو۔غور سے سنو! پالتو گدھے اورنوک دار دانتوں والے درندے تمہارے لیے حلال نہیں ہیں۔اور کسی معاہد کی گری پڑی چیز بھی (تمہارے لیے حلال نہیں ہے)۔(مسند أحمد بن حنبل، مسند الشامیین، حديث المقدام بن معديكرب)