فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 171
ہوں گی۔فانی فی مقام النصح و لم لا اکون و الدین النصح و انما الاعمال بالنیّات وانما لامرء مانویٰ۔۔{ FR 4787 } میرے دل میں جو ش زن ہے۔جہاں تک آپ سے ہو سکے یہ خط احباب کو دکھلائیے۔کیونکہ لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتّٰى يُحِبَّ لِأَخِيْهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهٖ { FR 5343 }جناب رسالت مآب کا فرمان ہے۔میرے عزیز اب میں اس مضمون کو چند فقروں میں بیان کرتا ہوں۔فقرہ اوّل۔نسخ کے معنی۔نسخ لغت میں باطل کر دینے اور دُور کر دینے کو کہتے ہیں اور نقل اور تحویل اور تغیر کے معنوں میں بھی آیا ہے۔قاموس میں لکھا ہے۔نَسَخَهٗ کَمَنَعَهٗ اَ زَالَهٗ وَغَیَّرَهٗ وَ اَبْطَلَهٗ وَاَقَامَ شَیْئًا مَقَامَهٗ وَ الشَّیْءَ مَسَخَهٗ وَالْکِتَابَ کَتَبَهٗ۔(قاموس) { FR 4788 } اَلنَّسْخُ اِبْطَالُ شَیْءٍ وَ اِقَامَةُ غَیْرِهٖ مَقَامَهٗ، نَسَخَتِ الشَّمْسُ الظِّلَّ وَھُوَ مَعْنَی مَا نَنْسَخْ (مجمع البحار) { FR 4789 } و نسخ الکتاب ازالة الحکم بحکم تعقیبہ قال تعالیٰ ماننسخ من آیة(خفاجی){ FR 5365 } النسخ النقل و کنقل کتاب من آخر و الثانی الابطال و الازالة و ھو { FN 4787 } میں تو خیرخواہی کے مقام پر ہوں اور میںخیرخواہ کیوں نہ بنوں جبکہ دین تو ہے ہی خیرخواہی۔اور اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور آدمی کے لیے وہی ہے جس کی اُس نے نیت کی۔{ FN 5343 } تم میں سے کوئی ایمان نہیں لاتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔{ FN 4788 } نَسَخَهٗ کے معنٰی مَنَعَهٗ کی طرح ہیں، یعنی اُس نے اسے روک دیا، دُور کردیا اور اُس نے اسے تبدیل کردیا، باطل کردیا اور کوئی چیز اُس کی جگہ کھڑی کردی، اور نَسَخَ الشَّیْءَ کے معنی ہیں اُس نے وہ چیز مٹا دی، اور نَسَخَ الْکِتَابَ کے معنی ہیں کہ اُس نے اُسے لکھا۔{ FN 4789 } اَلنَّسْخُ کے معنٰی ہیں کسی چیز کو ختم کرنا اور اس کی جگہ کسی اور کو کھڑا کردینا۔نَسَخَتِ الشَّمْسُ الظِّلَّ یعنی سورج نے سایہ کو ختم کردیا اور مَا نَنْسَخْ کے یہی معنٰی ہیں۔ اور نسخ الکتاب کے معنی ہیں کسی حکم کو اُس کے بعد دوسرا حکم لا کر زائل کرنا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: جو بھی آیت ہم زائل کردیں۔