فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 129
ہیں۔ان کا ضعف ہمیں مضر نہیں۔یہ پانچویں دلیل میں نے تبرکاً لکھی ہے۔تبرکاً اس لئے کہ امام بخاری سے اسی طرز کے قریب جزء القراء ة میں موجود ہے۔اِلَّا بخاری نے شواہد نہیں لکھے۔اس دلیل کے تمام ہوتے ہی مجھے یہ خیال پیدا ہو گیا کہ بعضے ناظر اس دلیل پر جوش کریں گے کیونکہ کیدانی نے رسول اللہ صلعم کی مواظبت کو سنیت کا مستلزم بنایا ہے نہ فرضیت کا۔اس لئے فقرات ذیل گذارش ہیں۔عینی نے ہدایہ کے حاشیہ میں کہا ہے۔دیکھو باب النوافل۔فإن قلت: قَوْله تَعَالٰى: ارْكَعُوْا وَاسْجُدُوْا (الحج: ۷۷) أمر ومع هذا يتكرر في كل ركعة۔قلتُ ذلك لفعل النبي عَلَيْهِ السَّلَامُ لأنه لم ينقل عنه الاكتفاء بركوع واحد ولا الاكتفاء بسجود۔{ FR 5573 } سوال کا خلاصہ یہ ہے امر تکرار کا مقتضی نہیں پھر ہر رکعت کے رکوع و سجود کی فرضیت کیونکر ثابت ہو گی۔جواب میں کہا ہے کہ یہ فرضیت فعل نبوی سے ثابت ہے۔کیونکہ ایک ہی رکوع یا ایک سجود پر اکتفا کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے منقول نہیں ہوا۔اس جواب میں صاف ظاہر ہے کہ مواظبت سے فرضیت ثابت کی ہے۔ُطرہ یہ کہ َعدمُ النقل کو نقلُ العدَم سمجھا ہے۔اب حسب قول آپ کے ہم بھی کہتے ہیں ہر رکعت میں فاتحة الکتاب پڑھنے پر رسول اللہ صلعم نے مواظبت فرمائی ہے۔عدم قراءت فاتحہ پر اکتفا منقول نہیں کسی حدیث مرفوع اور صحیح میں اکتفا بعدم القراءت کا ذکر نہیں پس قراءت فاتحہ ہر رکعت میں فرض ہو گی۔اور صحیحین کے مقابل کی اصح الکتب ہدایہ شریف میں رکعت ثانیہ میں قراءت کی فرضیت پر ایک ایسے عجیب قیاس سے کام لیا ہے جس کی نسبت زپائے تا بسرش ہر کجا کہ منکرم کرشمہ دامن دل میکشد کہ جا اینجا است بیان اجمال یہ ہے کہ حنفیہ فرضوں کی دو رکعتوں میں اور وتروں نفلوں کی کل رکعتوں میں { FN 5573 } اگر تم یہ کہو کہ اللہ تعالیٰ کا قول ’’رکوع کرو اور سجدہ کرو‘‘ ایک اَمر ہے اور اس کے ساتھ ہر رکعت میں تکرار کی جاتی ہے۔تو میں کہوں گا کہ یہ نبی علیہ السلام کے عمل کی وجہ سے ہے، کیونکہ آپؐ سے ایک رکوع پر اکتفاء کرنا اور ایک سجدہ کو کافی سمجھنا نقل نہیں کیا گیا۔(البناية شرح الهداية، کتاب الصلاة، باب النوافل، فصل فی القراءة، حکم القراءة فی الفرض)