فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 108
دیکھیے۔اور یہ دلائل قراءت فاتحہ پر نصّ ہیں۔یاد رہے اگر اجماع حجت ہے تو صحیحین کی تفضیل پر اجماع الکل ہے اور اجماع الاکثر کا تو مجھے یقین ہے آپ کو بھی انکار نہ ہو گا۔گو ابن ہَمّام اور اس کے اتباع کا انکار آپ کی نظر سے گذر چکا ہو۔پنجاب کے ممتاز اذکیا مولوی ابوسعید محمد حسین نے اس مسئلہ میںمنح الباری فی ترجیح البخاری لکھی ہے اور صاحب دراسات نے ایک نہایت ہی لطیف دراسہ لکھا ہے۔فقیر تطویل سے ڈر کر اس مقام میں صرف ان دونوں کتابوں کا حوالہ کافی جانتا ہے۔انشاء اللہ اس دراسہ کا ترجمہ عنقریب لکھوں گا اور استقصاء میں امامیہ نے جو اعتراض صحیحین پر کئے ہیں ان کا بھی بالاستیعاب جواب دوں گا۔سچ ہے بعد کتاب اللہ صحیحین کے علو کے سامنے اور کتب کو کیا وقعت ہے ادنیٰ کی قدر کچھ نہیں اعلیٰ کے سامنے دریا کے آگے کیا ہے حقیقت حباب کی جواب۲۔مولوی عبد الحی صاحب لکھنوی حنفی (ان صاحبوں کی مختلف علوم پر بڑی نظر ہے۔بظاہر تعصب بے جا کم فرماتے ہیں انہوں نے اس قول کی نسبت فرمایا ہے۔ومنهم من تفوه بفساد الصلاة بـها وهذا القول الأخير أضعف الأقوال في هذا المبحث وأوهنها بل هو باطل قطعًا وأحق بأن لايلتفت اليه جزمًا وينظم في سلك الاقوال المردودة التي لم يقم صاحبها عليها حجة ودليلًا۔وهو مشتمل على تفريط كبير متضاد غاية التضاد لقول من قال إن الصلاة تفسد بترك قراءتها حتى أن المقتدي إذا أدرك الإمام في الركوع فاقتدى به ولم يتيسر له قراءة الفاتحة تفسد صلاته فإنه مشتمل على افراط كبير بل التفريط في الحكم بفساد الصلاة بقراءتها أكثر من الافراط في الحكم بفسادها بترك قراءتها { FR 5147 }۔(وقَالَ أيضًا:)۔وخامسھا۔أن الصلاة تفسد بالقراءة خلف الإمام كما ذكره { FN 5147 } اور اُن میں سے بعض نے اس (قراءت) کو نماز خراب کرنے والا ٹھہرایا ہے اور اس بحث میں یہ آخری قول تمام اقوال میں سے کمزور ترین اور بے طاقت ہے۔بلکہ یہ تو قطعی بے بنیاد ہے۔اور اس لائق ہے کہ اس کی طرف بالکل بھی توجہ نہ کی جائے۔اور اسے ایسے ردّ شدہ اقوال کی لڑی میں ڈال دیا جائے جس سے کہنے والا حجت یا دلیل قائم نہیں کرسکتا۔اور یہ تو ایک بہت بڑی کوتاہی پر مبنی ہے، جو اُس شخص کے قول سے غایت درجہ متضاد ہے جس نے کہا کہ نماز سورۂ فاتحہ کی قراءت چھوڑنے سے فاسد ہوجاتی ہے، حتّٰی کہ مقتدی جب امام کو رکوع میں پاتا ہے پھر وہ اُس کی اقتداء کرتا ہے اور اُسے سورۂ فاتحہ پڑھنا میسر نہیں ہوتا تو اُس کی نماز ناقص ہوجاتی ہے کیونکہ یہ ایک بڑے افراط کا موجب ہے۔بلکہ (حقیقت تو یہ ہے کہ) سورۂ فاتحہ پڑھنے سے نماز کے فاسد ہونے کا حکم دینے میں کوتاہی کا پایا جانا زیادہ (ممکن) ہے بنسبت اس کا پڑھنا ترک کرنے سے نماز کے فاسد ہونے کا حکم دینے میں زیادتی ہونے سے۔(إمام الکلام فیما یتعلق بالقراءة خلف الإمام، صفحہ9، مطبوعہ مطبع مصطفائی)