فیشن پرستی — Page 23
تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کے رسول میں (ایک عظیم الشان ) اسوہ حسنہ ہے ہر اس فرد بشر کے لئے جو اللہ تعالیٰ کا خواہاں ہے اور یوم آخرۃ میں سرخرو ہونا چاہتا ہے۔“ صلى الله اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو اسوہ حسنہ یعنی ماڈل کے طور پر پیش کیا ہے کہ تم زندگی کے فیشن ان سے سیکھو اور ان راہوں پر چلو جن پر یہ ہمارا رسول چلتا ہے۔تو نتیجہ یہ ہوگا کہ تم خدا کو پالو گے اور یوم آخرۃ میں بھی سرخرو ہو گے۔تمہارا انجام بخیر ہوگا۔تمہیں خدا کی رضا اور محبت حاصل ہوگی۔جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا: قل ان كنتم تحبون الله فاتبعوني يحببكم الله ويغفر لكم ذنوبكم ”اے رسول یہ اعلان عام کر دو کہ اگر تم خدا کے محبوب بننا چاہتے ہو تو میری پیروی کرو۔خدا تم سے محبت کرنے لگ جائے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا“۔(آل عمران : 32) اس آیت میں بھی یہ اعلان کیا گیا ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے طریق جو انہوں نے اختیار کئے اور تمہارے لئے بطور اسوہ حسنہ چھوڑے ان کو اختیار کرو۔ان کے نقش قدم پر چلو کہ وہی حقیقی زندگی کے فیشن ہیں جو ابدی ہیں۔جن میں قیامت تک کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔دوسرے فیشن تو ہر روز بدلتے رہتے ہیں۔لوگ ان سے بددل ہو جاتے ہیں اور خدا کی ناراضگی بھی مول لینی پڑتی ہے۔مگر یہ ایسا فیشن ہے کہ نہ تو بدلتا ہے نہ لوگ اس سے بددل ہوتے ہیں اور نہ ہی خدا ناراض ہوتا ہے بلکہ محبت خداوندی حاصل ہوتی ، گناہ بخشے جاتے اور انجام بخیر ہوتا ہے۔23