فیشن پرستی — Page 16
دی جائے پھر کہیں گی شادی سے پہلے بچے جننے کی اجازت دی جائے۔میں کہوں گا پھر تمہیں دوزخ میں جانے کے لئے بھی تیار رہنا چاہئے وہ اپنے آپ کو ٹھیک کر لیں قبل اس کے کہ خدا کا قہر نازل ہو۔“ (دوره مغرب 1980 ، صفحہ 238-239) حضرت خلیفہ مسیح الرابع حمداللہ تعالی فرماتے ہیں: مستورات کی تقریر میں میں نے ” پردے“ کو موضوع کے طور پر اختیار کیا۔کیونکہ میں محسوس کر رہا تھا کہ دنیا میں اکثر جگہ سے پردہ اس طرح غائب ہو رہا ہے کہ گویا اس کا وجود ہی کوئی نہیں اور اس کے نتیجے میں جو انتہائی خوفناک ہلاکتیں سامنے کھڑی قوم کو آنکھیں پھاڑے دیکھ رہی ہیں ، ان ہلاکتوں کا کوئی احساس نہیں ہے۔ماں باپ اپنی بے عملی اور غفلتوں کے نتیجہ میں اپنی نئی نسلوں کو ایک معاشرتی جہنم میں جھونک رہے ہیں اور کوئی نہیں جو اس کی پر واہ کرے۔یہ صورت حال ساری دنیا میں اتنی سنگین ہوتی جا رہی ہے کہ مجھے خیال آیا کہ اگر احمدیوں نے فوری طور پر اسلام کے دفاع کا جھنڈا اپنے ہاتھ میں نہ لیا تو معاملہ حد سے آگے بڑھ جائے گا اور ساری دنیا میں اسلامی پردے کی حفاظت کا سہرا احمدی بچیوں کے سر رہے گا انشاء اللہ۔ہم نے سب کھوئی ہوئی اقدار کو واپس حاصل کرنا ہے۔ہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک حضرت محمد مصطفی عملے کے معاشرے کی حفاظت نہیں کریں گے اور اسے دوبارہ دنیا میں قائم اور نافذ نہیں کر دیں گے۔پھر ایسی خواتین ہیں جن کو باہر تو نکلنا پڑتا ہے لیکن وہ سنگھار پٹار کر کے نکلتی ہیں۔اب کام کا سنگھار پٹار سے کیا تعلق ہے۔سنگھار پٹار ان کے اس فعل کو جھٹلا دیتا ہے کہ اگر تم 16