فیشن پرستی

by Other Authors

Page 14 of 30

فیشن پرستی — Page 14

عورت جوان ہوں اور آزادی اور بے پردگی بھی ہو تو ان کے تعلقات کس قدر خطر ناک ہوں گے۔بد نظر ڈالنی اور نفس کے جذبات سے اکثر مغلوب ہو جانا انسان کا خاصہ ہے۔پھر جس حالت میں کہ پردہ میں بے اعتدالیاں ہوتی ہیں اور فسق و فجور کے مرتکب ہو جاتے ہیں تو آزادی میں کیا کچھ نہ ہوگا۔“ ( ملفوظات جلد چہارم مطبوعہ 2003، صفحہ 104) اس بارہ میں خلفاء احمدیت کے ارشادات ملاحظہ ہوں۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسلام میں جو اصل پردہ رائج تھا وہ گھونگٹ تھا اور وہی اصل پردہ ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الاوّل رضی اللہ عنہ ہمیشہ فرمایا کرتے تھے یہ نسبت اس پردہ کے جو آجکل ہمارے ملک میں رائج ہے زیادہ محفوظ تھا۔چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ ہمیں گھونگٹ نکال کر دکھایا کرتے تھے اور بتایا کرتے تھے کہ پردہ کا اصل طریق یہ ہے۔اگر اس طرح گھونگٹ نکالا جائے تو لازماً موٹے کپڑے کا چہرہ پر سایہ پڑے گا اور صحیح معنوں میں پردہ قائم رہ سکے گا۔لیکن موجودہ نقاب کا طریق ایسا ہے جس میں پو را پردہ نہیں ہوسکتا۔بہر حال ہر ایک کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ اسلامی احکام پر عمل کرے اور اگر کہیں اس کے عمل میں کمزوری پائی جاتی ہو تو اس کو دور کرے۔“ ii۔(الازهار لذوات الخمار حصہ دوم صفحہ 157) شرعی پردہ جو قرآن شریف سے ثابت ہے یہ ہے کہ عورت کے بال، گردن اور چہرہ کانوں کے آگے تک ڈھکا ہوا ہو۔اس حکم کی تعمیل میں مختلف ممالک میں اپنے حالات اور لباس کے مطابق پردہ کیا جا سکتا ہے۔“ الفضل 03 نومبر 1924ء) ہاتھ کے جوڑ کے اوپر سارے کا سارا حصہ پردہ میں شامل ہے۔“ الازھار لذوات الخمار حصہ دوم مطبوعہ 2008 انڈیا صفحہ 157) 14