فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 93 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 93

۹۳ اسلام کی خوبی کیا بتائی۔میں حُسنِ اسلام المرءِ تَرَكَهُ مَا لَا يَعْنِيهِ - دیکھئے ایمان کا مدار اسپر رکھا۔لا يُؤْ مِنْ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبُّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ۔ایسے ملک میں جو سراسر جہالت ہو۔اور کوئی کتاب اُس ملک میں نہ ہو۔ایسی سیرت اورتعلیم کا آدمی جس کی تمام تعلیم قوائے فطری اور قانون قدرت کے موافق ہو جس میں تمام روحانی ضرورتیں موجود ہوں۔اگر معجزہ اور خرق عادت نہیں تو نظیر دو - ایکبار گنگیش داس نام سکھ نے کہا۔سکھوں کا مذہر تمام مذاہی سے بے عیب ہے۔کیونکہ اُس میں بجز تو حید اور حمد باریتعالے کے کسی امر سے سروکار نہیں۔میں نے عرض کیا۔بتائیے ماں بہن کے نکاح میں سکھی مذہب والا آزاد ہو۔یا اس قسم کے مسائل میں آریوں۔ہندوؤں مسلمانوں کا محتاج بتقدیر اقل آپ نمونہ دکھائیے۔بتقدیر ثانی سکھوں کا مذہب کا مل نہیں۔اور عام اور مشترکہ ضرورتوں میں کافی نہیں۔احادیث میں جسقدر معجزات اور آیات نبوت اور علامات رسالت اور دلائل کمالات نوید کا ذکر ہے۔پادری اور مخالف گروہ اُن پر اتنا ہی اعتراض کرتے ہیں کہ احادیث معتبر نہیں مگر قومی روایات کے طور پر انکو تسلیم کرنے سے چارہ نہیں رکھتے۔اسلامی مختلف مذاہب میں بطور اشتراک وجود معجزات تواتر سے شاہ ہے۔اور اگر تو اتر حجت نہیں تو عیسی بن مریم اور موسی نبی بنی اسرائیل کے نفس وجود سے انکار ممکن ہوگا۔جو ایک سفسطہ ہے۔قحط میں آپنے دعا فرمائی اور معا مینہ برسا۔بار ہا تھوڑا پانی آپکی دعا سے بہتوں کو کافی ہوا۔قیصر اور کسریٰ کی نسبت خبر دی کہ پھر قیصر و کسری نہ ہوں گے۔تیرہ سو برس ہو اس کی تصدیق ہوتی ہو۔قیصر ہند نہ تو مطلق قیصر ہے نہ قیصر ہند ہے۔بلکہ قیصرہ ہند ہو۔حدیث سیح میں آیا ہو۔ہمیشہ میری امت میں ایک گروہ رہیگا جو حق پر غالب رہیگا۔کوئی مخالف انکو اے بیعنی مسلمان کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ بے فائدہ اور غیر مقصود چیز کو چھوڑ دے ۱۲ ے لیے کوئی تم میں میں کام نہیں ہوتا ہے یہانتک کہ دوست رکھے اپنے بھائی مسلمان کو اسے وہ چیز و پروتک کی اسکے