فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 85
۸۵ بعد اس تمہید کے سور کا شعرا کی چند آیتوں پر غور کرو۔یہ تیسرا معجزہ نہ ہوگا بلا کسی مجبورت ہونگے۔یہ سورہ شعرا سکتے میں اُتری جب کہ آپ بالکل اکیلے تھے۔کچھ لوگ جو ایمان لائے تھے۔وہ بھی جینے کو ہجرت کر گئے تھے۔منکروں کو آپ فرماتے ہیں۔تم میری تکذیب کرتے ہو۔اسکا و بال دیکھو گے تمہاری حالت زمین کے پودوں کی طرح ہوگی۔جو آج ہے۔اور کچھ مدت کے بعد فنا ہو گا۔فَقَدْ كَذَّبُوا فَسَيَاتِيهِمْ أَنْبَاءُ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهُرْمُونَ - أَوَلَمْ يَرُوا إِلَى الْأَرْضِ كمْ اثْبَتَنَا فِيهَا مِنْ كُلِّ زَوج كريم - إن في ذلك لا يَة وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ - پاره ۱۹ - رکوع ۵ - پھر موسیٰ کا قصہ بیان کیا۔اور بتایا کہ فرعون مخالفت کے سبب سزا یاب ہوا۔اور موسی بیچ رہا۔ينَا مُوسى وَمَنْ مَعَهُ أَجْمَعِينَ ثُمَّ أَغْرَقْنَا الْأَخَرِينَ إِنَّ فِي ذَلِكَ لوية وما كان أكثر هُمْ مُؤْمِنِينَ - سیاره ۱۹ - رکوع - پھر ابراہیم اور انکی کامیابی اور انکے دشمنوں کی تباہی کا ذکر کیا اور کہا۔ا في ذلك ريَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ۔پان 19 رکوع و پھر نوع اور انکے ہمراہیوں کی نجات اور انکی مخالف قوم کی ہلاکت کا ذکر کر کے فر مایا۔ان في ذلك لا يَة وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤمنين پاره ۱۹- رکوع ۵ ۰ ۸ ۹ ۱۰ ۱۱ ۱۲ ۱۳ ۱۴ لے سوجھٹلا چکے۔اب پہنچیگی ان پر حقیقت اس بات کی جس پٹھٹھے کرتے تھے۔کیا نہیں دیکھتے زمین کو کتنی لگائیں اس میں ہم نے ہر بھانت بھانت چیزیں اس میں البتہ نشان ہے اور وہ بہت لوگ نہیں مانتے۔ہلے اور بچا دیا ہم نے موسیٰ کو اور جو لوگ تھے اسکے ساتھ سارے پھر ڈوبا یا اُن دوسروں کو البتہ اس میں ایک نشانی ہے اور نہیں وہ بہت لوگ ماننے والے ۱۲ ۱۲ سے البتہ اس میں ایک نشانی ہے اور وہ بہت لوگ نہیں ماننے والے "