فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 429 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 429

تو سب نیک ہی ہوتے۔اور اگر تمام کفر کے لئے بنائے جاتے تو سارے کا فر ہو جاتے۔الا جس حالت میں ہماری ذات بابرکات نے سب کو خواہ مخواہ ہدایت یاب ہونے پر مجبول نہیں کیا تو کیا یہ بات صحیح ہو سکتی ہے کہ ہم نے او مسٹر کو تم کو مشرک بننے پر محمول کیا ہے۔نہیں آ بات غلط ہے۔غرض نہ اللہ تعالی نے علی العموم لوگوں کو ہدایت پر محمول کیا ہے اور نہ شرک پر اسے جہ کرنے کی کیا حاجت۔وہ برائی کرنا چاہیے اور پھر بر کرا دے۔دیکھو ہم کو کوئی زور سے بہر سے کام پر لیجانا ہے۔نہیں ہرگز نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو وسعت اور قدرت دی ہے اور تکلیفات شرعیہ پر ہمیں کہا ہے ا يكلف الله نفسا إلا وسعها اور فرمایا ہے۔فَمَنْ شَاءَ فَلْيُوم زمین و من فليكفر - سیپاره ۱۵ - سور الکهف - رکوع ۴ - ވ۔ވ وامات بلکہ شریعی طاقت اور استطاعت عقلی طاقت اور استطاعت سے بھی وسیع ہے۔دیکھو اور ل الله نفسا إلا وسعها د س - سوس لا يقر - ركوع -م - الله على الناس حجم البيت من استطاع إليه سبيلا سيارة - سورة ال عمران - ع - سب پیاس ۳۰۷ - سومر هلیل رکوع ۱ - } کل دنیا کی ترقی کا مدار قومی اجتماع پر ہے۔تمام مہذب بلاد میں جب تہذیب شروع ہوئی اس وقت بھی یہی کھبی انجمنیں نہیں حضور علیہ السلام کے دین میں اللہ تعالی نے قومی اجتماع کے پھر جوکوئی چاہے مانے اور جو کوئی چاہے زمانے۔ے اور جو شو و تمھے سو ہم نے ان کو راہ بتائی پھر ان کو روشن لگا اندھے رہنا سو چھنے سے ۱۲ اللہ تکلیف نہیں دیتا کسی شخص کو مگر جو اس کی گنجائش ہے۔۱۴ اور اللہ کا حق ہے لوگوں پر سے کرتا اس گھر کا جو کوئی پائے اس تک ماہ ۱۲ تو سچ سچ پہنچادیں گے ہم اس کو آسانی میں ۱۲