فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 422
۴۲۲ وكذلك حقت كلمة ربك على اللذين كفروا أنهم تحب الناي مسي ان كا سوال مومن بع ونَ يا حَقِّ عَلَيْهِمُ الضَّلَالَةُ ، إِنَّهُمْ اتَّخذ والشياطين اولياء - سيائي لا شكل اعراف مي كولم مواد قول اور کلمے کے معنی وہ لازمی معین سزا اور عذاب ہے جو بحسب قانونِ قدرت اعمال بد ا نتیجہ ہواکرتا ہے۔انہیں اور کو الہامی زبان میں اس قسم کے محاورات میں ادا کیا جاتا ہے۔اُنکے لئے معین ہو چکا ہے۔ان کے لئے لکھا گیا۔وغیرہ وغیرہ۔ان امور مشاہدہ کا کون انکار کر سکتا ہے۔چوتھی آیت ۲۹ فَمَنْ شَاءَ ذَكَرَهُ ، وَمَا يَذْكُرُونَ إِلا ان شاء الله سيا- سوره مدثر۔مرکوع ۲ من شَالَ مِنكُمْ أَن يَسْتَقِيمَ وَمَا تَشَاءُون الا ان يت ان الله رب العالمين مالو سکوت جواب معدوم کو موجود کرنا خدا کا کام ہے مخلوق میں ہال حیوان اور انسان کے دل میں کسی ارادے اور شیت کا پیدا کر د بیا بیشک باری تعالیٰ کا کام ہے۔الا ہر ایک منصف جاتنا ہے کہ صرف مشیت اور ارادے کے وجود سے کس فعل کا وجود ضروری اور لازمی امر نہیں۔یقیناً قوسی فطری کا فلق اور عطا کرنا جن پر سرگونہ افعال کا وجود و ظہور مترتب ومتفرع ہو سکتا ہے۔خالق ہی کا کام ہے اس لطیف نکتے کے سمجھانے کے لئے اور نیز اس امر کے اظہار کرنے کو کہ قومی طبعی اور کائنات سے کوئی وجو د اصل امرخلق میں شریک نہیں سب اشیاء کی علت العلل میں سہی ہوئی باری تعالی اسب افعال کو بلکہ ان افعال کو بھی جو ہم معائنے اور مشاہدے کے طور پر انسان اور ے اور ویسی ہی ٹھیک ہو چکی بات تیرے رب کی منکروں پر کہ یہ ہیں دو نخ دار ہے ۱۲ ے اور ایک فرقے پر ٹھہری گمراہی انہوں نے پکڑ ا شیطان کو رفیق " کے اور پیر کی ان پر بات اس واسطے کہ انہوں نے شرارت کی۔سود سے کچھ نہیں بولتے ؟ سے پھر جو کوئی چاہے اُسے یاد کرے اور ا سے بات نہیں کریں کہ چاہے اللہ ہ شہ اور جو کوئی چاہے تم میں سے کہ سیدھا چلے اور تم یہی چاہو کہ چاہے اللہ جہان کا صاحب ۱۳