فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 421
گیا اسی طرح سے بیکار اور معطل رہتے رہتے بالکل نکمے ہو جاتے ہیں۔اور ان پر صادق آتا ہے کہ اب ان قوسی پیر اور ان قومی کے رکھنے والوں پر مہر لگ گئی ہے۔ہر ایک گناہ کا مرتکب دیکھ لے جب پر ٹی وہ پہلے پہل کسی برائی کا ارتکاب کرتا ہے تو اس وقت اس کے ملکی قومی کیسے مضطرب ہوتے ہیں پھر جیسے وہ ہر روز برائی کرتا جاتا ہے ویسے آہستہ آہستہ وہ اضطراب اور حیا اور تامل جو پہلے دن اس بد کار کو لاحق ہوا تھا وہ اُڑ جاتا ہے تمہیں تعجب اور انکار کیوں ہے۔انسانی نیچر اور فطرت اور اُس کے محاورے کی بولی پر غور کرو۔شریر اور بد نامی آدمی کو ایک ناصح فصیح نہیں کہتا کہ ان کی عقل ہیں پتھر پڑ گئے۔ان کے کان بہرے ہو گئے۔ان کی سمجھ میں تالے لگ گئے کیا ان جوانوں سے حقیقت مراد ہوتی ہے۔دوسری آیت فريقا هدى وَفَرِيقًا حَنَ عَلَيْهِمُ الضَّلال ہے۔سیپارہ سوری کا اعتراف کی کو ۳۴ اس کا جواب خود اسی آیت کے آگے موجود ہے۔یک نهما تخَذَنَا الشَّيَاطِينَ أَوْلِيَاء مِن دُونِ اللَّهِ وَتَحْسَبُونَا أَنَّهُمْ مُهْتَدُونَ سی پاشه سور ه اثرات سی کو ہم ۳ جب شیطان کی محبت چھوڑ دی جاوے تو یہ سزا اٹھ جاتی ہے۔تیسری است لقد حَى القَوْل عَلى الكثرِهِمْ فَهُمْ لَا يُو ممنو اس کا جواب قرآن کریم دئے کا ہے۔شہ ایک فرقے کو راہ دی اور ایک فرقے پر ٹھیری گھر ہیں۔انہوں نے پکڑ اش میخانوں کو رفیق اللہ چھوڑ کر اور سمجھتے ہیں کہ دے راہ پر ہیں۔سلہ ثابت ہو چکی ہے بات ان بہتوں پر سود سے نہ بنائیں گئے ہو