فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 35 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 35

۳۵ خود بخود اُسے اسباب مل گیا۔تو اسکے صفات نے ترکیب کر دکھلائی۔دیا گور کر پائی۔زبان سے کہتے ہیں پر عدل کے سامنے اُسکے رحم و کرمہ کا یہ حال ہے کہ بے سزا دیے کسی کو نہیں چھوڑتا۔حلانکہ نیا کاری کا لفظ جس کے معنی عادل کے ہیں۔یہانتک میں نے پوچھا وید میں نہیں مگر قرآن کہتا ہے اور مسلمانوں کا اعتقاد ہے۔ولَمْ يَكُن لَّهُ شَرِيكَ فِي المُلكِ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَة تَقدِيرًا- سورة -JA ވ فرقان - سیپاره۔سلُونَكَ عَنِ الرُّوح قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبّي - سورة بنى اسرائيل سيپار - ال لَهُ الْخَلْق وَالأمْرُ سُوره اعراف سیپاره ۸ - رکوع ۱۴ - قرآن اور اسلام تمام اشیاء پر خدا کو محیط کہتا ہے۔حانَ اللهُ بِكُلِّ شَيْئًا تُحِيطًا - سُوره نساء - سیپاره آریہ کی طرح نہیں کہتا کہ ذرات عالم اور انکے خواص اور ارواج اور اُنکے خواص احاطہ قدرت خداوندی اور اُسکے خلق کے احاطے سے باہر ہیں۔جہاں تک میں نے آریوں سے مادہ عالم کے غیر مخلوق ہونے کے دلائل سنے ان کا سر دفتر یہی دلیل ہے۔علت مادمی کے سوا فاعل کچھ نہیں کر سکتا۔پس اگر یہ مانو اُسکی مخلوق ہیں۔تو اُس نے اُن کو کس مادے سے بنایا۔میں کہتا ہوں یہ دلیل تب چل سکتی ہے۔جب خدائی طاقت (الیشر کی شکستی مخلوق کی سی کتی ہوتی۔ہم تم بدول مادہ کچھ نہیں بنا سکتے۔اسلئے ہم کہدیں خدا بھی بلوں مادہ کچھ نہیں اے رحیم و کریم ہوں تلے اور نہیں کوئی اس کا ساتھی راج میں اور بنائی ہر چیز اور ٹھیک کیا اُس کو ماپ کر (1) للہ اور تجھ سے پوچھتے ہیں روح کو تو کہ روح ہے میرے رب کے حکم سے لا جھے سن لو اُسی کا کام ہے بنانا اور حکم فرمانا ہو نے اور اللہ کے ڈھب میں ہے سب چیز ۱۲