فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 403 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 403

۴۰۳ اعمال وافعال بھی اچھے ہونگے۔اور جس کا ایمان ناقص ہے۔اسکے اعمال بھی ناقص ہونگے جسکی مثال قرآن اس طرح پہ بیان فرماتا ہے۔مساهمة طيبة الشجرة طَيِّبَةٍ أَصلها ثابت وفرمها في اللاء سیپاره ۱۳ - سوره ابراهیم - رکوع ۲ - - یہی سچی تعلیم ہو اور یہی واقعی باریتعالی کا عدل و رحم و انصاف ہو جسے قرآن تنظیم اور فرقان حمید تعلیم کرتا ہے۔نہ یہ کہ ایک شخص کے مصلوب مقتول ومعون ہونے سے کوئی بھی کیوں نہ ہو ، انسان کی نجات ہو۔اور عدل و رحم کی تکمیل میں کی کوئی نظیر عالم ر مشاہدے میں پائی نہیں جاتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اس کفارہ میسج کے اعتقاد نے جن کی تسلیم کل اخلاقی نیکیوں اور قوائے فطرت کے اصلی مقتضیات کی راساً جڑ کاٹ ڈالتی ہے۔ان فرضی اور مخترع متقدرات ذہنی پر نصار مئی کو مجبور کر رکھا ہے۔اور اس کو اولا ایک عقیدہ مسلمہ اور اصول موضوعہ کے طور پر فرض کر کے پھر ایسے ناشر نی امور کا بیڑا اٹھایا ہے کہ فعال صورت میں عدل و ریم جمع ہو سکتا ہے۔اور فلاں صورت میں نہیں ہو سکتا۔مگر افسوس یہ لوگ ان الفاظ کا موضوع اصلی اور مفہوم حقیقی سمجھنے سے قاصر رہے ہیں اور اپنے ذہنی اور فرضی مخترعات کو قانون قدرت کی محک پر کسنے کی کبھی کوشش نہیں کی۔مسئلہ تقدیر پادری صاحب کے اعتراض کا خلاصہ مسلمان گناہ کو ایک خفیف سی حرکت اور وہ بھی خدا کی کرائی جانتے ہیں مسلمان گناہ کو خدا کا فعل اور اسی کے مجبور کرنے سے سرزد ہوا ہوا یقین کر کے گناہ کرنے میں ایک مثال ایک بات نہری جیسے ایک درخت سنہرا اس کی جڑ مضبوط ہے اور ٹہنی آسمان میں ۱۲