فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 392
وَاسْتَغْفِرُونَ لِمَنْ فِي الأَرض سیپاره ۲۵ - سوره شوری - رکوع ۱ - سوال اگر نیک اعمال سو نجات ہو تو نیک اعمال سے کل اوامر اور نواہی کا بجالانا ضرور ہو یا جسقدر ہوسکیں ؟ جواب صاحب کہات فضل سے اور قتل کو ایمان لے سکتا ہے ایمان اچھے پھلوں کا بیج ہو اچھے بیج سے اچھے ہی پھل حاصل ہوتے ہیں۔اگر ایمان بڑا اور قومی ہے تو اعمال نیک ہی ہوں گے۔پس آپکے اگر مگرہ کی گنجائش ہی کہاں ہمیں نو۔نجات دو قسم کی ہو۔ایک جہنم میں ہمیشہ رہنے سے بچے رہنا۔وہ تفصیل سے ہوگی۔بشر طیکہ ایمان ہو۔اور فضل کو چاہے بلکہ صحیح مسلم جیسی بھی انجیل شریف میں محمد رسول اللہ مسلحم فرماتے ہیں۔بغیر عمل عَمَلُوهُ وَلَا خَيْرِ قَدَمُوهُ۔یعنی جنت میں ایسے لوگ بھی جائیں گے جنہوں نے کوئی عمل اور شیر نہیں کی۔اور جن کہائر گناہوں پر ابدی سزا کا ہونا بیان ہوا۔وہ بیان بالکل راست ہے۔وہ کیا تو ایسے ہیں کہ ابدی سزا میں پھنسا ئیں۔الا خدا پر ایمان لانا اور اسکی توحید پر ثابت قدم ہونا۔اور میں بلائے بد شرک میں مشترک پھنس کر تباہ ہوئے۔اس بلا سے الگ ہو جانا بلکہ صرف رحم بھی ایسے فضل کے دائیں کر دیتا ہے۔کہ بڑے گناہ کے مرتکب کو وہ فضل ابدی جہنم سے نکال لاتا ہے۔اور اس ابدی سزا کے موجب پر یہ فضل نجات کا موجب غالب آجاتا ہے۔مثلاً ایک شخص نے تھوڑی سی گرم جدید کھالی وہ گرم چیز ضرور گرمی کرے گی۔الا اگر اس کے ساتھ بہت سی سرد چیز کھائی گئی۔تو ظاہر ہے کہ اس سرود کی سردی اس گریہ کی گرمی کو باطل تونکی کر دے گی۔اور دوسری قسم کی نجات، لکن نیک اعمال کی کثرت سے ہوگی۔جو مجھے ایمان کا ثمرہ ہیں۔خدا کے فضل و کرم سے حاصل ہوگی۔اور گنا و بخشوانے میں زمین والوں کے ہیں