فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 354
سرم ۵ سر بیان تو کیا۔مگر آخر عیسائیوں نے مسیح کو خدائے مجسم کہ دیا۔بلکہ خوش اعتقادوں نے اُن کی والدہ مریم صدیقہ کو بھی مستمر با بیت تثلیت تجویز کیا۔آریہ ورت مکمار اور عوام سری کرشن جی اور سری رامچندر جی کو خدا کا دو تار کہ اُٹھے گرو تا نیک صاح بے تارک الدنیا اخلاق مجمر پھیلے گرد صاحب کو او تار بنا گئے۔پس ایسے واعظوں کے تعلیم یافتہ پیروں کی یہ حالت کیوں ہوئی۔صرف اسلیئے کہ مریدوں کی اپنے ہادی سے دلی محبت سابقہ بت پرستی کی عادت سے مکر نور ایمان اور عقل صحیح پر غالب آگئی۔اور کوئی ایسی قو می روک اُن کے ہادیوں نے نہیں رکھی تھی۔جسکے ذریعے توحید مخالص اُنکے مشرکانہ طبائع کو فتح کرلیتی ہیں جب عیسائیوں اور ہنڈوں رسکھوں کے مقدس لوگوں کو شرک کرتے دیکھتا اور اُن کی زبان سے سنتا ہوں کہ وہ کہتے ہیں۔ہمارے ہادی خدائے مجسم اور اوتار تھے۔تو مجھے یقین ہو جاتا ہے کہ بیشک یہ سچا سچے خدا کا کلام ہے۔مَا كَانَ مُحَمَّدُ أَبا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِ وَلَكِن رَسُولَ اللهِ : خَاتَرَ النَّبِينَ۔اور سیپاره - سوره احزاب رکوع ۵ - تفصیل اس اجمال کی ہے سنے کہ محمد مسلم نے عملا اور اُن کی اُمت نے حسب تعلیم معملا اپنے ہادی کے اصولاً اقرار تو میکے ساتھ اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ! اقرار کو لازمی کیا ہو۔اس کلمے کے ایزاد نے جوکچھ اثر دنیا پر دکھلایا وہ بالکل ظاہر ہے۔اور یہی اس کے منجانب اللہ ہونے کی زبردست شہادت ہے۔ہندوستان کے ہادیوں نے ملکہ ھے سکتے کی خطرناک پوچھا اور گنگ کی خلاف تہذیب پرستش و کم نہ کیا۔اور یہود نے طافی کی پو جا اُس وقت تک نہ چھوڑی جب تک۔ہ محمد باپ نہیں کسی کا تمہارے مردوں میں لیکن رسول ہے اللہ کا اور مہر سب نبیوں پر ۱۲