فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 353
۳۵۳ مندا در ایران مقتصر اور یونان بے ریب علوم و تحقیقات کے مخزن تھے۔الا بت پرستی کے عام رواج نے ان ملکوں میں یہ طاقت کہاں باقی رکھتی تھی کہ مریم یا سیخ کی الو ہمیت کا کھلا باطل مسئلہ۔اور عشائی ربانی میں روٹی اور شراب کا حقیقتا نہ مجاز مسیح کے گوشت اور لہو ہو جانے کا وہم اہل دنیا کے دلوں سے اُٹھاتی۔پھر عرب کے سے جاہل اور سخت بت پرست ماہ سے کیا امید تھی کہ ان توہمات کا مقابلہ کرتا۔کفارے کی لغو امید نے لوگوں کی یہ حالت کر دی تھی کہ اُن کے دلوں سے گناہ کا ڈر اُٹھ گیا تھا۔کیونکہ پی سیج پر ایمان لانے والوں کے بدلے میں خود بسیج مطعون ہو گئے اور دہی سزا یاب ہو گئے۔تو ایسے مومن کو بوسیح پر ایمان لایا گناہ کا ڈر ہی کیا رہا۔جب کفر و شرک کی ایسی گھٹا چھائی ہوئی تھی۔تو قرآن کی سخت ضرورت ہوئی۔کہ دنیا میں اُترے۔تاکہ حضرت مسیح سے ان اتہامات کو دور کرے اور دنیا میں خالص توحید کو جو اصل اور مقصود بالذات مواعظ ابراہیم اور موسی اور عیسے کا ہر پھیلائے۔جو اللہ عَنَّا مَنْ نَزَلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ اَحْسَنَ الْجَزَاءِ۔ابطال الوہیت مسیح میں میں نے علیحدہ مضمون لکھا ہے۔اور اُس میں یہ ظاہر کیا گیا ہو کہ بعض عیسائی قرآن کے نہ سمجھنے سے یہ کہتے ہیں کہ قرآن نے مسئلہ تثلیث کو سمجھا ہی نہیں۔اور انسانیت کو ہیت کے اجتماع پر قرآن نے نظر نہیں کی۔پادریوں کی اس غلطی کو وہاں واضح کر دیا ہے۔دنیل صاحبکا ترجمہ صفحہ ۳۵- اور گین جلد مدا صفحه ۲- ۳ - موشیه جلد به صفحه ۲۳۲) چوتھی ضرورت دنیا میں انبیاء کی پاک تعلیم نے خدائے تعالیٰ کی عظمت اور بڑائی اور اس کے عدل اور قدوسیت اور رحم اور قدرت کاملہ اور ربوبیت عامہ کا وعظ پھیلایا اور جنس مصلحان قوم نے بھی جن کی فطرت سلیم اور قوت ایمانی مستقیم تھی توحید کو حمدگی سے بیان فرمایا۔مگر ان کے اتباع نے آخر اپنے ہاوسی ہی کو معبود بنا لیا۔حضرت مسیح نے خداوند کریم کی بزرگی و عظمت کو