فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 323
FFF اور تہنم کے مستوجب ہوگے۔اگر یہ کلام کسی را حق کی طرف بلانے والے کے منہ سے کلا ہے۔تو اُسے ہم کتب الہامی کے محاورے کے رو سے و عاد و سعید کے الفاظ تعبیر کرتے ہیں۔ورنہ ہم اُسے سوائے خدام کے ڈرانے یا خوش کرنے کے کچھ وقعت نہیں دے سکتے اور سچی الہامی پیشین گوئی کا مستحق اُسے کبھی نہ سمجھیں گے۔نیکن اگر کوئی کہدے کہ فلاں قوم کی تباہی و زوال یا فلاں واقعہ تعظیم ایک سال یا پانچ ماہ کے اندر واقع ہوگا۔یا فلانی خاص زیم با عادت و رواج خلال قوم و ملک سے ابد تک نیست و نابود ہو جاو گی۔یا فلاں قوم ضعیف اسقدر محدود و معتین ابد عرصے میں الہی جلال اور شان و شوکت کے لباس سے ملبس ہو گی۔تو اب ہمہ بغور دیکھیں گے کہ اس دعوے کے وقت ملکی تمدنی طبعی واقعات و حالات ایسے موجود تو نہیں یا ایسے کلیات تو پیش نظر نہیں جن سے ایسے جزئیات کا استخراج بآسانی ممکن الوجود ہے۔کوئی قرینہ کو ئی سبب حاضر الوقت تو نہیں جو اس مخبر کی خبر کے ماخذ و منشا ہیں۔یا صرف ترغیب و ترہیب ہی تو نہیں۔تو بیشک و بے شبہ ایسے کلام کو نیچے واقعی الہام کا نتیجہ اورحقیقی عزت کا مستحق قرار دینگے۔اب ہم اُس کامل محک کے اوپر موسی و عیسی ونبی عرب کی پیشین گوئیوں کو نہایت آزادی اور ایک انداری سے پرکھیں گے۔اور دکھلائیں گے کہ سچی پیشینگوئی کے خطاب کا شہری تاج کیس مبارک سر پر جگمگ جگمگ کر رہا ہے۔مثال شق اول موسی نے اپنی قوم بنی اسرائیل سے خطاب کرکے فرمایاکہ تم میرے بعد جلد مرتد ہو جاؤ گے۔اور بدکاری اور ثبت پرستی کے مرتکب ہو گے اور ایسا ہی ہوا کہ بنی اسرائیل موسی کے بعد بہت جلدار نداد و برا فعالی کی بلا میں گرفتار ہو گئے۔اب اسے پیشنگوئی کہو یا قیاس و فراست کا نتیجہ کہو بات صاف ہے۔حضرت موسی بنی اسرائیل کے واقعات گزشتہ سے خوب واقف تھے۔انکی گرگٹ۔