فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 310
۳۱ نوین بشارت باغ وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلاً رَجُلَيْنِ جَعَلْنَ الأَحَدٍ هِمَا جَنَّتَيْنِ مِنْ أَعْتَابٍ وَحَفَقْهُمَا DOWNLOAا بِنَحْلِ وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمَا زَرْعَاهُ كُلْنَا الْجَنَّتَيْنِ أَتَتْ أُكُلَهَا وَلَمْ تَظْلِمُ مِّنْهُ شَيْئًا وَ فَجَّرُنَا خِللَهُمَا نَهْرَا وَ كَانَ لَهُ تَمَرَ فَقَالَ لِصَاحِبِهِ وَهُوَ يُجَاوِرُةٌ أَنَا أَكْثَرُ مِنْكَ مَا لاو اَعَن نَفَر أَو دَخَلَ جَنَّتَهُ وَهُوَ ظَالِمُ لِنَفْسِه قَالَ مَا أظن أن بنيد هذه ایگاه سیپاره ۱۵ سوره کهف - رکوع ۵ - اقترب لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُّعْرِضُونَ ، سیپاره، سوره انبياء ركوع یہ پیشینگوئی اور بشارت به نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہے۔انجیل میں یہ بشارت نہایت تفصیل سے موجود ہے۔وہ بڑا باغ اور بنی اسرائیل کا تاکستان یروشلم پر بنی اسرائیل اپنے ناپاک گھمنڈ میں اپنے بھائی بنی اسمعیل کو ہمیشہ حقیر و ذلیل جانتے رہے۔اور اپنی باغبانی کے بقول مَا أَظُنُّ أَنْ تَبِيدَ هَذِهِ اَبَدا ) لازوال ہونے کا یقین کرتے رہے حضرت مسیح نے ان کو آگاہ کیا اور بتایا تمہاری باغبانی جاتی رہیگی۔اب نیا افسر اور نئے باغبان آنے والے ہیں۔اگر تم نے ان نئے باغبانوں پر حملہ کیا۔تو پور ہو جاؤ گے۔اور اگر وہ تم پر اور بیان کر واسطے اُن کے مشال دو مرد کی کہ گئے ہم نے واسطے ایک کے اُن میں سے دو باغ انگوروں سے اور یرا ہم نے ان دونوں کو ساتھ کھجوروںکے اور کی ہم نے درمیان ان دونوں کے کھیتی۔دونوں باغوں نے دیا میوہ اپنا اورنہ کم کیا اس میں سے کچھ اور بہادی ہم نے درمیان ان دونوں کے نہر اور تھا واسطے اسکے میوہ نہیں کہا، اس نے واسطے ہمنشین اپنے کے اور وہ سوال جواب کرتا تھا اس سے میں زیادہ تر ہوں تجھ سے مال میں اور زیادہ عزت والا ہوں آدمیوںکو اور داخل ہوا باغ اپنے میں اور وہ ظلم کر نیوالا تھا جان اپنی پر کہا کہ میں نہیں گمان کرتا یہ کہ بلاک ہو ویسے یہ باغ کبھی ۱۲ - سکے نزدیک آیا ہے واسطے لوگوں کے حساب لیں کیا اور وہ بیچ غفلت کے منہ پھیر رہے ہیں ۱۲۔