فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 290
ابد کی سلطنت ہے جو جاتی نہ رہے گی۔اور اسکی مملکت ایسی ہے جو زائل نہ ہوگی۔اس مقدس آدم زاد اور تسلط اور سمت والے سلطان کے مخالف کے حق میں دانیال کے ، باب ۲۵ میں ہے۔وہ حق تعالیٰ کے مخالفت باتیں کریگا۔اور حق تعالے کے منقدرسوں کو تصدیعہ دیگا۔اور چاہیگا وقتوں اور شریعتوں کو بدل ڈا نے۔اور و سے اسکے قبضے میں دیجائینگی۔یہاں تک کہ ایک مدت اور مدنیں اور آدھی بمدت گزر جائیگی۔پھر عادات بیٹھے گی۔اور اسکی سلطنت اس سے لے لینگے کہ اُسے ہمیشہ کیلئے نیست و نابود کریں۔اور لی تمام آسمان تلے وہ سارے ملکوں کی سلطنت اور مملکت اور سلطنت کی حشمت حق تعالیٰ کے مقدس لوگوں کو بخشی جائے گی۔اس کی سلطنت ابدی سلطنت ہے اور ساری مملکتیں اس کی بندگی کرینگی۔اور فرمانبردار ہوں گی۔اس سارے دانیال کے مضمون پر غور کرو - هی قتل گیارہویں شاخ کب ہوا۔نبی عرب کے وقت نبی عرب کا وجود باجود ظاہر ہوا۔نبی عرب کی سلطنت بلا و شام اور عرب میں ابدی ہوئی۔ھر قتل حق تعالیٰ کی مخالف باتیں کرنے والا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت مدت، ایک سال اور ابو بکر کے ایام خلافت میں دو سال اور عمری خلافت میں بکر ایام میں دو چھ ماہ تک باہمہ شرارت پاک زمین کے سارے ملکوں اور اُس زمین کے تمام آسمانوں کے تلے رہا۔پھر عدالت بیٹھی۔یعنی عمر فاروق کے عہد عدالت مہر میں یہ باد ہوا۔اور اسی عدالت کے وقت وہ بات پوری ہوئی۔جو دانیال -۲- باب ۳۴ میں ہے۔کہ ایک پتھر بغیر اسکے کہ کوئی ہاتھ سے کاٹ کے نکالے آپ سے نکلا۔جو اس شکل کے پاؤں پر جھولو ہے اور مٹی کے تھے لگا۔اور انہیں ٹکڑے کیا۔تب لو ہا۔اور مٹی۔اور تانیا۔اور چاند کی۔اور سونا، ٹکڑے کڑے کئے گئے۔یہانتک کہ ان کا پتہ نہ ملا۔اور وہ پتھر جس نے اس عورت کو مارا پہاڑ بن گیا۔اور تمام زمین کو بھر دیا۔دانیال -۲- باب ۵ خود کرو وہ پتھر چھوٹا سا کیسا پہاڑ بن گیا۔