فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 258 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 258

۲۵۸ تجھ کو دونگا۔پیدائش ۱۷- باب ۶ تا ۸ - یہ وہ وعدے ہیں۔جو ابراہیم کی اولاد کے لئے مشترکہ ہیں۔اور یہ خدا کے سچے وعد دونوں بھائیوں اسمعیل اور اسحاق کے حق میں ظاہر ہوئے۔کنعان کا ملک ایک نے مانے تنگ بنی اسحاق کے قبضے میں رہا۔پھر تیرہ سو برس سے جنگ بنی المیل یا انکے خادموں کے قبضے میں ہے۔ایسا ہی وہ ملک جو لوط کے جدا ہوتے وقت ابراہیم نے دیکھا۔اور ایسے ہی مصر سے فرات تک کا ملک دونوں صاحبوں کو ملا۔اسمعیل اور اسحاق سے ابراہم کی اولاد بہت بڑھی۔اُن سے تومیں پیدا ہوئیں۔بادشاہ نکلے۔کنعان کے مالک ہوئے۔کوئی تخصیص بنی اسحاق کے لئے اس میں نہیں۔بلکہ زبور ۱۵۰- 9 سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اسحاق سے جسمانی و عدہ تھا۔کیونکہ لکھا ہو کہ وہ عہد جو ابراہیم سو ہوا اور اسحاق سے اُس کی قسم کھائی۔اور بنی اسرائیل سے دائمی با ندھا گیا۔اور یعقوب سے بطور قانون کے مقرر ہوا۔وہ کنعان کی زمین دینے کا وعدہ تھا" خاص خاص گر ہم معنی وعدوں کا بیان - تکوین - باب ۱۶ - ۱۷ - خاتون سارہ آپ کی اولاد بے شمار ہوگی۔باب ۱۶ - ۱۵- خاتون ہاجرہ آپ کی اولاد بے شمار ہوگی۔"" " " " " " باب ۲۵ - ۱۱ - آپ کے فرزند اسحاق کو برکت دی اللہ تعالے نے۔باب ۲۰۱۷ - آپ کے فرزند اسمعیل کو برکت دی اللہ تعالے نے۔باب ۲۱-۱- آپ کے درد و غم کوشنا اللہ نے۔باب ۱۶- ۱۱ - آپ کے درد و غم کو سُنا اللہ نے۔پاپ ۲۶-۲۴- آپ کے فرزند کے ساتھ خدا تھا۔باسی ۲۱-۲۰- آپ کے فرز بار کے ساتھ خدا تھا۔