فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 257
۲۵۷ اسحاق کی نسبت روحانی وعدہ ہے اور اہم میل کی نسبت جسمانی۔اگر یہ اس کا جواب ابھی ہو چکا ہے الا مزید توضیح کے لئے کسی قد تفصیل کی جاتی ہے۔۔۔ہم اسمعیلی اور اسحاقی وعدوں کو بمقابلہ یکد گر تورات سے جمع کر کے ناظرین با انصدمت کے سامنے پیش کرتے ہیں۔اور ان کے نور ایمان اور انصاف سے پوچھتے ہیں کہ کس طرح سے وہی وعدہ اسمعیل کے حق میں تو جسمانی اور اسحاق کے حق میں روحانی ہو سکتا ہے۔اور چونکہ باریتعالی کے وعد سے ابراہیم کے ساتھ دو طرح کے ہیں۔ایک عام طور پر ابراہیم کی اولاد کے لئے۔اور ایک خاص طور پر اسمعیل اور اسحاق کے لئے۔اسلئے قبل از مقابلہ ہم مشترکہ ، عدسے بیان کرینگے کیونکہ وہ وعدے جیسے الحاق کے حق میں ہیں۔ویسے ہی اسمعیل کے حق میں بھی ہیں۔اگر اُن سے اسحاق کو تر جیح ہو سکے تو اُنھیں سے اسمعیل کو بھی ہو سکتی ہے۔اگر یہ وعدے رُوحانی ہیں۔تو اسحاق اور اسمعیل دونوں کے لئے۔اور اگر جسمانی ہیں۔تو بھی دونوں کے لئے۔اور اگر عام ہیں کہ وحانی ہوں یا جسمانی تو کبھی دونوں کے لئے۔مشتر کہ وعدے (1) جب ابراہیم کنعان میں پہنچا۔تو خدا نے کہا۔یہ زمین میں تیری اولاد کو دوں گا۔پیدائیش ۱۲- باب (۲) جب ابراہیم لوط سے جدا ہوئے۔خدا نے کہا۔آنکھیں کھول چاروں طرف کی زمین تیری اولاد کو رونگا۔۱۳ پیدائیش باب ۱۴ ۱۶۷ - (۳) مصر سے فرات تک کی زمین میں تیری اولاد کو دونگا۔پیدایس باب ۱۵- ۱۸ (۴) تیری اولاد کو وسیع اور بے شمار کرونگا۔پیدائیش باب ۱۵- ۵ - (۵) جب ابراہیم ننانوے برس کے ہوئے۔خدا نے وعدہ کیا کہ تجھے زیادہ سے زیادہ کرونگا۔تجھ سے تو میں پیدا ہونگی۔اور بادشاہ ہونگے۔اور کنعان کی زمین بوراشت دائمی