فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 221 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 221

۲۲۱ مان على سرر مصفوفة لوقا 14 باب ۲۴ - منتی ۶ باب ۳۰ - دیکھوسوسن کیسے کیسے ور وجنَاهُمْ بِعُدي علي لباس پہنتا ہے جو سلیمان کو بھی نصیب نہ ہوئے تھے۔سورۂ طور سیپارہ ۲۷- رکو۔پس اگر خدا کھیت کی گھانس کو جو آج ہے اور کل تنور میں ار أنت ثم أنت جھونکا جاتا ہے یوں پہناتا ہے تو اسے کم اعتقاد و کیا تم کو نعيما وَ مُنْكًا كَبِيرًا عَالِيَهُمْ زیادہ نہ پہنائیگا۔استبرق ثيَابُ سُنْدُسٍ خُضْر و مکاشفات ۲۲ باب۔آب حیات کی ندی اور زندگی کے درخت است برق وحُلُوا آسا در اور اُس کے پھلوں کا ذکر ہے۔اور آخر میں کہا ہے۔اس کے مِنْ نِضَةٍ وَسَقَاهُمْ رَبُّهُم بندے اُس کا منہ دیکھیں گے اور اس کا نام اُن کے ہا تھوں شرا با طَهُورًا سُوره انسان پر ہوگا۔اور رات نہ ہوگی۔اور دے چراغ اور سورج کی روشنی سیپاره -۲۹ رکوع ۱۹ کے محتاج نہیں۔عیسائیوں میں مسلم امر ہے کہ موسیٰ نے جس کستان کا وعدہ کیا تھا۔وہ اصلی کنشان کا نمونہ تھا۔اور عیسائی یہ بھی کہتے ہیں مسیح شیطانی مصر سے نکالتا ہے۔اور حقیقی کنعان کی راہ پر لاتا ہے۔پس موسے جس خانی دُودھ اور شہد اور پانی شراب اور زمین کا ذکر کرتا ہے۔اُس کے مقابلے میں باقی اور غیر فانی دودھ اور شہد اور پانی اور شراب اور نفیس زمین ضرور ملے گی۔عیسائی صاحبان مشرآن کریم میں جن نہروں کا ذکر ہے۔وہ وہی غیر فانی اور دائمی اور حقیقی کنعان کی نعمتیں ہیں۔جسے بہشت کہتے ہیں۔اگر کتب مقدسہ ے تکیہ لگائے ہوئے قطار تختوں پر اور بیاہ دیا ہم نے ان کو بڑی آنکھ والی گورمی عورتوں سے ۱۲ اور جب دیکھنے تو وہاں تو دیکھے نعمت اور سلطنت بڑی او پر ان کے کپڑا باریک ریشمی سبز اور گاڑھے اور پہنائے گئے کنگئیں چاندی کے اور پلا دے ان کو خدا ان کا شراب پاک ۱۲۔