فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 211
۲۱۱ لائی زہارون پاس (۴) تو لے لیا ہارون نے اُسے اُن کے ہاتھ سے اور بند کیا اسے بھٹی میں بنایا اسے اُن لوگوں نے گوسالہ سحر اور کہا یہی بنی اسرائیل تمہارا معبود ہو۔جو تم کو ملک مصر سے چھڑ ا لایا۔تفسیر۔یہ اول آیت ہے جسے لوگ کہتے ہیں۔ہارون نے گو سالہ بنا یا ر دہریے اور عیسائی لاکن 4 1 کے 21 4- 4- جمع کا صیغہ ہے جس کے معنی بنایا۔لہذا فاعل ااُس کا ہارون نہیں ہو سکتے۔علیٰ ہذا القیاس 1 4 4 پی 1۔جمع کا لفظ ہے۔معنے اس کے ہیں۔کہا۔ان دونوں لفظوں کا فاعل ایک ہی ہے۔وہ بسبب جمع ہونے فعل کے حضرت ہارون نہیں ہو سکتے۔تفسیر۔رہی۔جب مولی مصر سے چلے تو اجنبی قوم ان میں بہت ساحر اور منافق بھی ساتھ ہو لئے تھے۔اس واقعے میں جب ہارون نے زیورات کو آگ میں ڈالا تو سحرہ منافقوں نے وہاں جا کے اپنے سحر سے اُس کو گوسالہ بنا کے بنی اسرائیل کو اس کی پرستش کے لیے بہکایا۔(۵) جب ہارون نے دیکھا تو ایک مذبیح اپنے سامنے بنایا۔اور فرما دیا۔کل خُدا کے لئے حج ہے۔تفسیر۔ہارون کے بھانجے حور نے گوسالہ پرستی سے منع کیا۔تو لوگوں نے اُن کو شہید کیا۔ہارون نے روک کے لئے تدبیر سوچی مذبع بنانے کا حکم دیا۔مطلب یہ تھا۔مذبح بنانے میں دیر لگے گی۔اور کچھ حج میں اتنے میں موسیٰ پہنچ جائینگے۔(۲۱) پھر موسی نے ہارون سے کہا۔اس قوم نے تمہارا کیا کیا کہ اسکو ایسے سخت گناہ میں قبلہ کیا۔(۲۲) ہارون نے کہا۔آپ ناراض نہ ہوں۔آپ جانتے ہیں یہ قوم شریر ہے (۲۳) ان لوگوں نے مجھ سے کہا ہمارے لئے قضات منفرد کر جو ہمارے آگے چلیں۔وہ مرد موسیٰ جو تم کو مصر سے