فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 210
۲۱۰ ہونے پر محیط ہو۔یہ حکیم محمد حسن صاحب اور بھی کی کتابوں میں مفصل ہے۔اعتراض - طہ میں ہو ضمیری نے بنی اسرائیل کی پرستش کے لئے بچھڑ نبھایا توریت سے صاف ظاہر ہے۔ہارون نے بچھڑو بنایا۔نہ ضمیری نے دیکھو خروج ۳۲۔جواب۔ضمیری کا نام قرآن میں نہیں۔ثبوت - خروج ۳۲ باب ۱- کا اصل ترجمہ مع تفسیر اور اسکی صحت کے سنو۔(1) جب قوم نے دیکھا موسٹی کی معاودت میں پہاڑ سے دیر ہوئی۔تو ہارون کے پاس جمع ہو کے کہا ہمارے لئے قضات اور ائمہ بنا جو ہمارے آگے آگے چلیں۔کیونکہ موسی جو ملک نہیں کیا ہوا۔رشی ربی شلومو اسحق کی تفسیر - مصر سے ہم کو چھڑا جب موسی پہاڑ پر گئے تھے تو چالیس دن کا وعدہ کر کے گئے تھے کہ اس عرصے میں لوڈونگا مقصود موسی کا چالیس دن سوائے روز روانگی کے تھا۔مگر قوم نے مع روز روانگی چالیش دن سمجھا جب اس عرصے میں موسی نے معاودت نہ فرمائی۔تو قوم بے قرار ہوئی۔کیونکہ ان کا مقصود شام کے ملک میں جلد پہنچنا تھا۔ہوائے شام ان کے سر میں پیچیدہ تھی۔اس عرصے میں شیطان نے ان سے کہا موسی مر گئے اور اُنکو موٹی کی صورت دکھائی کہ فرشتے اُنہیں آسمان پر لئے جاتے ہیں۔جب قوم کو موسی کے کرنے کا یقین ہوا تو ہارون۔درخواست خلیفہ کی گئی۔لاکن پاروں کو موسٹی کے وعدے کی کیفیت معلوم تھی کہ ۳۲ سانت میں پہنچ جائیں گے۔اس لئے قوم کو اسکے ارادے سے باز رکھنے کے لئے کہا۔(۲) ہارون نے اُن سے کہا سونے کے حلقے جو تمہاری عورتوں اور لڑکوں کے کانوں میں ہیں۔اُسے نکال کے میرے پاس لاؤ۔تفسیر۔ہارون کا مقصود یہ تھا۔لڑکے اور عورتیں جلدی اپنا زیور نہ رینگی۔اس میں اس قدر توقف ہو گا۔کہ موسیٰ یہاں پہنچ بھائیں گے۔(۳) قوم اُن سونے کے حلقوں کو جو ان کی عورتوں اور لڑکوں کے کانوں میں تھے۔اتار