فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 157 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 157

۱۵۷ جن کے در پیش عرب جیسی غیر مہذب انگھڑ سوسائٹی کے خلاف قدرت اور مضر معاشرت رسوم کا اصلاح کرنا تھا۔عرب میں (ہندوؤں کی طرح متبنی (منہ بولا بیٹا، صلبی بیٹے کے مان سمجھا جاتا تھا۔اس رسم قبیح سے جو نتائج فاسدہ دنیا میں ہوئے ہیں اور ہوتے ہیں عیاں ہیں۔اور حقیقی قدرت کہاں اجازت دیتی ہو کہ پر حقیقی اور متبنی دونوں مساوات کا درجہ رکھیں۔قرآن نے اس مضر اصل کی بیخ کنی کر دی کہ منہ بولے بیٹے تمہارے بیٹے نہیں ہیں۔تمہارے بیٹے یہی ہیں جو تمہارے نطفے سے ہیں۔اب یہاں قوم و ملک کے رسوم کے مخالف رو عظیم مشکلوں کا سامنا آپ کو کرنا پڑا۔ایک تو خدا کے قول و فعل کے مطابق رسم تبعیت کار کہ حقیقی بیٹے کے مانند ہیں توڑنا۔اور دوسرا ایک مطلقہ عورت سے رب سے شادی کرنا عرب جاہلیت میں سخت قابل ملامت و نفرت اور ذلت تصور کرتے تھے) نکاح کرنا۔مگر چونکہ عقلاً و رسما و شرعا یہ افعال معیوب نہ تھے۔اور ضرور تھا کہ مصلح و ہادی خود نظیر بنے تاکہ تابعین کو تحریک و ترغیب ہو۔آپ پہلے بیشک بمقتضائے بشریت گھبرائے۔اور بالآخر ان مشکلات پر غالب آکر ایک عجیب نظیر قائم کر دکھلائی۔پادری صاحب کی عقل پر تعجب آتا ہے۔جو کہتے ہیں محمد نے لوگوں سے ڈر کے آیت او تار لی کونسی آیت او بار لی اور ڈر ہی کیا تھا۔یہ منحضرت کو اس بات کا ڈر تھا اور لوگوں کی طرف سے خوف تھا کہ دشمن اس بات کا طعنہ دینگے کہ انکا اپنے ہاتھ سے کیا ہوا کام انجام کو نہ پہنچا۔کیونکہ آنحضرت مسلم خود اس مزا وجت کے تکفل اور منصرم ہوئے تھے اور بڑے اصرار سے زینہ کے وارثوں سے اُسکو زید کے لئے مانگا تھا۔اور اب اس مفارقت پر دشمن طعنہ دے سکتے تھے۔بیشک اس بات کا آپ کو خوف تھا اور ان کی اس ناچاقی کو وہ اخفا کرنا چاہتے تھے جو بالآخر چھوٹ نکلی۔اسی خوف و اخفا کی نسبت قرآن کریم فرماتا ہے کہ تو لوگوں سے ڈرتا تھا۔حالانکہ ڈرنا تو مجھ سے چاہیئے۔یہ ایک عجیب محاورہ قرآنی