فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 145 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 145

۱۴۵ معاصرین کفار و غیر محفوظ مقام بن سکتے تھے اسلئے بڑا خوف ہوا۔علاوہ برا منافقوں کا کل بھاگنا اور کمزور دلوں کا گذر بلاؤں پہ بلائیں لایا۔قربان جائیے الہی عاجہ نوازی کے اُسی کے جنود نے ان سب اعدا کو بھگوڑا بنایا۔اورتخمینا ایک مہینے کے محاصرے پر کفار غرب الہی اسبابوں سے بھاگ گئے۔کیونکہ دس ہزار کی بھیڑ کے ساتھ تین ہزار اسلامیوں میں سے صرف تین سو باقی رہ گئے تھے۔دوہی جو سچے مسلمان تھے ، جب دشمن خود بخود بھاگ گئے اور آپکو انکی طرف سے امن ہوا۔اور یہ اندیشہ مٹ گیا۔تو اہل اسلام کو ایک نیا کھٹکا ہوا کہ بنو قریظہ عورت کنی کر چکے ہیں۔اگر انہوں نے مدینے پر شبخون مارا۔تو ہر ایک اسلام و الا قتل ہو جائیگا۔لہذا مقتضی عاقبت اندیشی نے بتایا تو آپ مقام جنگ سے جہاں خود حفاظتی کے لئے آپ نے کھائی کھود لی تھی۔مدینے تشریف لائے اور قلعہ جات بنو قریظہ کا محاصرہ کیا۔دس پندرہ روز محاصرے میں لگ گئے۔اب قلعہ بند لوگ گھبرائے۔اللہ تعالیٰ نے اُنکے دِلوں میں رعب ڈالا رو قَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرعب) تب یہودان بنو قریظہ کا رئیس کعب بن اس قوم میں کھڑا ہوا۔اور وہ ایسے دی جس میں کہا۔اسے قوم نمکو منا ر ہے۔تین باتوں میں سے ایک بات مان لو۔یا تو اس شخص ( محمد) پر ایمان لاؤ۔تم کو صاف عیاں ہو چکا ہو۔شخص بیشک نبی ہے اور یہ وہی ہے جس کی بابت توریت میں پیشین گوئی اور بشارت ہو چکی ہے۔تم اور تمہارا مال واسباب اور تمہاری جانیں بیچ رہیں گی۔قوم نے اسپر انکار کیا۔تب اس نے کہا۔آؤ عورتوں اور بچوں کو قتل کر ڈالیں اسکی سزا پائی اور تلواریں کے مسلمانوں پر گر پڑیں یہانتک کہ شہید ہو جاویں۔قوم نے کیا۔اگر ہم جیت گئے تو بال بچوں اور عورتوں کے بغیر ہماری زندگی کیونکر ہو گی۔تب کرتی نے کہا آج سبت کی راہ ہے۔محمدی جانتے ہیں۔آج ہم غافل ہیں اور سست ہیں۔آؤ غفلت میں مسلمانوں پر حملہ آوری کریں۔تب قوم نے کہا۔تجھ کو قوم نے خبر نہیں۔سبت کی بیحرمتی سے ہمارے بڑوں پر کیسے وبال آئے۔وہ سور اور بندر بن گئے۔ل اور ڈالا نکے دلوں میں خوف کو۔یہ آیت سیپارہ اور کورن ۱۹ شور کا احزاب میں ہے یہ