فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 8 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 8

اور اس کے دو باعث ہیں۔اقول منقولی مجزات صد ہا سال کے بعد ہمارے لئے مشہود او محسوس کا حکم نہیں رکھتے۔اور اخبار منقولہ ہونے کے باعث ان معجزات کو وہ درجہ حاصل نہیں ہو سکتا۔جو مرئیات تو اور مشاہدات کو حاصل ہوتا ہے۔دوم جن لوگوں نے ایسے معجزات مشاہدہ کیئے جو تصرف عقلی سے بالاتر ہیں انکے لئے بھی وہ مجودات تستی نام کا موجب نہیں ٹھہر سکتے۔بہت عجائبات شعبدہ باز بھی دکھاتے ہیں مختلف کو کیونکر ثابت کر دکھاویں کہ موسوی عجائبات اور عیسوی کرشمبات دست بازیوں سے منزہ تھے۔بلکہ یوشاہ باب ۲- ۵ میں ایک صحت بخش حوض کا ذکر لکھا ہی شیخ بھی وہاں اکثر جاتے تھے۔پس کیا تعجب سے میسیج نے ایسی قوم میں جو ہوا کے پانی کو تمام امراض کا شافی سمجھتی تھی۔اسی حوض کے پانی سے کوئی کمال اوڑا یا ہو۔ایسے تماشوں کے دکھانے میں عرصہ بھی قلیل ہوتا ہے جس میں غور اور فکر کا موقع ملے۔انت ہے۔میں کہتا ہوں سیٹی جزات پر میں نے رسالہ ابطال اکو ہی سہی میں تحقیقی اور انجیلی مذاق پر فصل کلام کیا ہو۔اسکے دیکھنے سے واضح ہوسکتا ہے کہ منقولی مجرات کافی شہادت ہو سکتے جب صرف معجزات اور اکیلے کرشمے صحیح نشان نبوت کا نہ ٹھہرے اور یہ بات عقل و نقل سے ثابت ہوگئی۔تو مجھے ضرور ٹھہرا کر قبل از بیان معجزات آپ کی پاکی تعلیم کو نہایت جانچ کی نگاہ سے بقدر ضرورت دکھا دوں۔مگر ہر نصف تسلیم کریگا کہ اگرکسی شخص کی تعلیم کی عمدگی ثابت کرنا ہو تو پہلے اُس معلم کے پہنتی افعال اور کردار کو دیکھا جائے۔واعظ کے عادات اور اطوار اسکے حالات و کردار اگر تا پسند ہونگے۔تو اُسکے پسندیدہ اقوال کا سارا دفتر گاؤ خورد ہو جا ویگا۔اوسکے نصائح کی عمارت اُسکے سامنے ہی خاک میں مل جائیگی۔پھر ایسا واعظ خدا کی طرف سے کیونکر مقرر ہو سکتا ہے۔