فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 7 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 7

نقصان نہ ہوگا۔بیماروں کو ہاتھ رکھکر جنگا کرینگے۔مرقس ۱۶ باب ۱۷ اس آیت سے صاف واضح ہوتا ہے کہ ہر ایک عیسائی مؤمن معجزات دکھاتا ہے۔پس معجزہ نبوت کے لئے لازمی دلیل نہ ہوا۔جب جناب شیخ نے یہ کرشمے عامہ مؤمنین کیلئے نشان ٹھہرائے۔تو صرف معجزات خاصہ نبوت نہ ٹھہرے۔سچ ہے حقیقت میں معجزات عمدہ تعلیمات ہی ہیں۔غور کرو عیسائی صاحبان تم میں سے بھی کوئی صاحب ایمان ہو۔اگر ہو تو مرقس 14 باب ۱۷ پر ذرا اسے پر رکھ لے۔اگر کہوان کرامات اور معجزات کی مسیح کے وقت ضرورت تھی۔آپ اُن کی ضرورت نہیں۔تو پھر انصاف سے کہو محمد صاح کے وقت انکی ضرورت کیوں مانتے ہو۔تم کو کسی امر نے مجبور کیا۔کہ تم اپنی بے ایمانی کو جو مرقس ۱۶ باب ۱۷ سے ثابت ہوتی ہی عدم ضرورت سے چھپالو۔اور محمد صاحب کے واسطے معجزات کی ضرورت تجویز کرو۔مجھے اس وقت سر و کیم میور کے اس قول پر ہنسی آتی ہے اگر محر صاحب مجزات دکھایا تولوگ ضرور انپر ایمان لاتے ، میور صاحب کو یاد نہیں رہا کہ فرعون نے کیسے کیسے تجزات دیکھے۔اور اُس کا دل سخت ہی رہا سیج کے وقت اُنکے دشمنوں نے کیسے کیسے معجزات دیکھے۔(اگر ثابت ہوں، مگر ذرا بھی اُن پر دھیان رکھنے والے نہ ہوئے۔یا کیا فرعون اور شیخ کے مخالفوں نے کوئی معجزہ نہیں دیکھا۔میور صاحب ک فرمانا اس زمانے میں نئے تعلیم یافتہ نوجوانوں کے آگے داد کے قابل ہے۔تقریر بالا کے لحاظ سے حسب تورات اور انجیل ثابت ہوگیا کہ صرف معجزات مثبت نبوت نہیں ہو سکتے حضرت مرزا غلام احمد نے براہین میں لکھا ہے۔جس معجزے کو عقل شناخت کر کے اُس کے منجانب اللہ ہونے پر گواہی دے ، وہ ان معجزات سے ہزار ہا درجے افضل ہو جو بطور قصہ مذ منقولات میں بیان کئے جاتے ہیں