فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 130 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 130

ہوئی۔قریش تو مدینے کے اُس طرف اُترے جہاں بارشی ندیاں بہتی تھیں۔بنی کنانہ اہل تنہا بنی قریظہ۔بنو نضر- غطفان - اہل نجد وغیرہ احد کی طرف اُترے۔اور مسلمان وہاں اُترے جہاں سکے نام پہاڑ اُن کے عقب میں تھا۔اور تعداد میں فقط تین ہزار تھے۔حیی بن اخطب خیبر کا ایک یہودی کعب بن اسد قرظی رئیس بنی قریظہ کے پاس آیا۔اور کعب قبل اسکے اپنی قیم کیجانب سے آنحضرت کے ساتھ مسالمت کا معاہدہ کر چکا تھا۔کعب قرظی نے یہ کہکر دروازہ بند کر لیا۔کہ میں نے آنحضرت سے معاہدہ کر لیا ہے۔اور میں نے اُس شخص کو سوائے وفا و صدق کے نہیں دیکھا۔اسلئے میں نقض معہد نہیں کریگا۔ابن اخط نے بڑے زور سی اُس سے کہا کہ او کمبخت۔میں تول کر کرار اور فوج جزار تیرے پاس لایا ہوں۔دیکھ و مجتمع الارسال دندیاں بہنے کی جگہ) میں اُترے پڑے ہیں۔اور غطفان اُن کے مقدمتہ الجیش ہیں۔وہ احد کے پاس ٹھیرے ہیں۔اور مجھ سے ان سب جماعتوں نے مضبوط عہد باندھا ہے کہ محمد (صلی اللہ سلم کے استیصال کئے بغیر یہاں سے ملیں گے نہیں۔غرض بڑے الحاح و اصرار سے کعب راضی ہو گیا۔اور نقض عہد کی شامت سے نہ ڈرا۔جب ی خبر آ نحضرت کو ہوئی۔آپنے سعد بن معاذ اور تسعد بن عبادہ اور ابن رواح اور خوات کو اسلئے بھیجا کہ یہود کی خبر لا میں کہیں کفار مکہ سے مل تو نہیں گئے۔جب یہ لوگ وہاں پہنچے دیکھا۔یہو د سخت بگڑے ہوئے ہیں اور مخالف ہو گئے۔یہ لوگ واپس چلے آئے۔اور اس واقعے کو نبی عرب پر ظاہر کیا۔عقل اور قارہ نے جیسے اصحاب الرجیع کے ساتھ مندر اور مکاری کی ہو۔ایسی ہی اس تکلیف کے وقت یہود نے بہت کہنی کی۔اسی واسطے اس غزوہ احتر آب اور خندق کے واقعے میں قرآن فرماتا ہے۔انجام و كُم مِّن فَوْقِكُم وَ مِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمُ و إِذْ زَاغَتِ الإِبصَارُ وَ بَلَغَتِ القُلُوبُ الْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُنُّونَا - هُنَالِكَ ہ جب آئے تھر اوپر کیڑوں سے اور نیچے سے اور جب ڈگنے لگیں آنکھیں اور پہنچے دل گلوں تک اور انکل کرنے کیطرف گے تم اللہ پرکئی کئی انکلیں وہاں جانچے گئے ایمان والے اور بلائے گئے سخت ہٹانا ۱۲