فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 128 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 128

۱۲۸ ۱۳ ره وه ۱۴ عزوه اسلئے اُسے ذات الرقاع کہتے ہیں۔اس غرز و س کو غزوہ محارب غزوہ بنی التمار اور غزوہ بنی تعلیہ بھی کہتے ہیں۔یہ وہی بنی تعلبہ ہیں جن سے سابق غزوہ بنی خطفان میں مقابلہ ہوا چاہتا تھا۔اب کی دفعہ یہ لوگ پھر جمع ہوئے اور دینے پر لوٹ مار کرنے کا قصد کیا۔آنحضرت انیر چڑھے اور نخل مقام میں خیمہ لگایا۔دونوں لشکر آمنے سامنے رہے۔یہیں آپنے نماز خون از افرمائی۔بدر الموعد - احمد کی جنگ میں ابوسفیان آئندہ سال کی جنگ کی دھمکی دے گیا تھا کہ پھر ہمارے تمہارے بذر پر لڑائی ہوگی۔اسلئے غزوہ ذات الرقاع سے واپس آکر آپ نے اس خوفناک و عید کیلئے طیاری کا حکم دیا۔مگر ابو سفیان راستے ہی سے لوٹ گیا لڑائی نہ ہوئی۔۱۵ غزوہ دومۃ الجندلی رسیہ ایک مقام ہر مدینے سے پندرہ سولہ منزل پر دو ماہ ابن ملی علیہ الصلوة والسلام کا بنایا ہوا یہاں دشمنان اسلام جمع ہوئے اور مسافرین کو غارت کرنا شروع کیا۔اور اُن کا قصد یہ تھا کہ مدینے پر جاپڑیں۔اسلئے بنظر پیش بندی حضور علیہ السلام نے وہاں کا عزم کیا۔مگر وہاں پہنچنے پر دشمنوں کی تبعیت پراگندہ ہو گئی۔غزوۃ المریسیع۔اس کو غزوہ بنی المصطلق بھی کہتے ہیں الحر کے نام ایک شخص اپنی تمام قوم اور ان تمام عربوں میں پھرا جن پر اسکی تقریب کا اثر مکن تھا اور انہیں اہل اسلام کی مخالفت میں بر انگیختہ کیا۔آنحضرت اس خبر کی تحقیق کر کے مریسیع تک جا پہنچے۔مخالفین کی طرف پہلے تیر چلا۔تب سلمانوں کی طرف سے بھی حملہ کیا گیا۔غزوہ خندق جسے غزوہ اختر اب بھی کہتے ہیں وجہ تسمیہ اسکی یہ ہو کہ آپ نے عزوه سلمان کے کہنے پر اپنی فوج کے گردا گرد خندق کھور والی تھی۔جیسا اُس زمانے میں اہل فارس کا دستور تھا) اس موقعہ پر مر کے بہ سے قبائل اہل اسلام کے استیصال کو اکٹھے ہوئے۔یہود کی ایک جماعت سلام بین حقیق نفرمی و حسین بن اخطب نفری و کنانہ بن ربیع بن ابی حقیق نصری و ہودہ بن قیس و ائلی و ابو عمار واعلی بنی نضیر اور بنی وائل قبیلے بہت سے لوگوں کو ساتھ لیکر زرقانی جلد ۲ صفحه ۱۱۵-۱۳ له زرقانی جلد ۲ صفحہ ۱۳۱۱۷