فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 120 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 120

١٣٠ ا عدوان الا على العلمين - سوره بقره - سیپاره ۲ رکوع ۲۴- لونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالِ فِيهِ ، فَلَى قِتَالَ فِيْهِ كَبِير قُل قِتَالُ بَيْهِ كَبِيرُ وَ صَدَّ عَن سَبِيلِ اللهِ وَكَفَرَ بِهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِخْرَاجُ أَهْلِهِ مِنْهُ اَكْبَرُ عِنْدَ اللهِ وَالْفِتْنَةُ اكبر مِنَ الْقَتْلِ وَلاَ يَزَالُونَ يُقَاتِلُونَكُمْ حَتَّى۔يَرُدُّ وكُمْ عَن دينكم إنِ اسْتَطَاعُوا - سوره بقره - سیپاره ۲ - رکوع ۲۷ - ولولا دفع الله النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَفَسَدَتِ الأَرض۔سورة بقره سیپاره ۲ رکوع ۳۳ - - بقیہ حالیہ ان سے مسجدالحرام کے پاس جب تک وہ نہ لڑیں تم سے اس جگہ پھر اگروہ لڑیں توان کو مارو یہی سزا ہو منکروں کی۔پھراگروہ باز آویںتو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔اور لڈو اُن سے جبتک نہ باقی رہے فساد اور اور حکم رہے اللہ کا۔پھر اگروہ باز آگئیں تو زیادتی نہیں مگر بے انصافوں پر ۱۲ لے تجھ سے پوچھتے ہیں مہینے حرام کو اور اس میں لڑائی کرتی تو وہ لڑائی میں بڑا گناہ ہو اور روکنا ان کی راہ سے ه ماه رجب مطابق نومبر ساء میں مدینے میں خبر آئی کہ اہل مکہ سامان جنگ کر رہے ہیں۔عبداللہ بن جحش کو آٹھ آدمیوں کے ساتھ دشمن کی سراغ رسانی پر بھیجا گیا عبداللہ نے مقام محل میں پوشیدہ ہوکر دشمن کے حرکات کو دیکھا کہ ایک چھوٹا سا کارواں چلا آتا ہے وہ اپنے تھوڑے ہمراہیوں کی شرارت کو روک نہ سکا انہوں نے اس قافلے پر حملہ کر کے ایک کو قتل اور دو کو گرفتار کر مع مال غنیمت دینے کی را ولی۔آپنے عبد اللہ بن جحش کو اس قتل پہ سمی علامت کی کہ میں نے تجھے لڑنے کو نہیں کہا تھا۔یہود ومشرکین کو آنحضرت کی بدگوئی کرنے کا ایک حیلہ ہاتھ آگیا۔جو مسلمان ابتک قریش کے قبضے میں تھے۔انہوں نے آنحضرت سے پوچھوایا کہ اس بدگوئی کا کیا جواب دیا جاوے۔آپ نے اُس کے جواب میں یہ آیت پڑھی ۱۲ ے اور اُس کو نہ ماننا اور سجد الحرام سے روکنا اور نکال دینا اسکے لوگوں کو وہاں سے، اس سے زیادہ گناہ ہے اللہ کے نزدیک اور دین سے پھلانا مارنے سے زیادہ اور وہ تو لگے ہی رہتے ہیں تم سے لڑانے کو یہاں تک کہ تم کو پھیر دیں تمہارے دین سے اگر مقدور پاویں سے اور اگر دفع نہ کرواو سے اللہ لوگوں کو ایک کو ایک سے تو خراب ہو جا وے ملک ۱۲