فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 119 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 119

119 قرآن نے بھی شکستہ دل مسلمانوں کے انتظہار اور قوت قلبی کو قومی کرنے کے لئے رجز یہ اشعار کے بجائے یہ تاثیر آیات بیان فرمائی ہیں۔جنہوں نے قومی اور کثیر مخالفین کے مقابلے میں سیف و ستان کا کام دیا۔اوران تمام آیات کے ضمائر کے مرجع اور اسمائے اشارات کے مشار الیہم اور عہد ذہنی الف لام کے معہود فی الذہن مخصوصا وہی ظالم و جابر حملہ آور مقاتلین ہیں۔جن سے اہل اسلام کو پالا پڑتا تھا۔مخالفین ان کو استغراقی الف لام گمان کر کے اور مختص المقام آیات نہ سمجھ کے سخت غلطیوں اور دھوکوں میں پڑے ہیں۔اور اکثر سادہ مفسرین بھی اس غلطی میں پڑنے سے محفوظ نہیں رہے ہیں۔ایک اور امر بھی ملحوظ رہنا چاہیئے کہ جسقدر لڑائیاں قریش سے ہوئی ہیں۔اُن کے وجوہ و اسباب کے تلاش کرنے کیلئے ہم کو زحمت اٹھانے کی ضرورت نہ ہوگی کیونکہ اُن کا وہی عذر و ستم جو مذکور ہو چکا ہے اہل اسلام کی جنگ کے لئے کافی عذر خواہ خیال کیا جا سکتا ہے اور ایسا ہی حال یہودان مدینہ کے ساتھ قتال کرنے کا ہو۔جنہوں نے اقسام اقسام کے خفیہ نفاقوں۔عذروں اور جیلوں سے دین جدید کے استیصال میں کوئی کوشش اُٹھا نہ رکھی۔گریم اللہ کی رو سے ہر غزوے کے وجوہ و اسباب قلمبند کرنے سے کوتاہی نہ کریں گے۔قرآن کریم کی آیات ذیل پر غور کرو۔وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ - وَاقْتُلُوا هُمُ حَيْثُ تَقِفْتُمُوهُمْ وَاخْرِجُوهُمُ مِنْ حَيْثُ أَخْرَجُوكُمْ وَالْفِتْنَةُ اَشَدُ مِنَ الْقَتْلِ وَلا تُقَاتِلُو هم عِبْد المَسْجِدِ الْحَرَامَ حَتَّى يُقَاتِلُوكُمْ فيهِ فَإِنْ قَاتِلُوكُمْ فَاقْتُلُوهُمْ كَذَلِكَ جَزَاءُ الْكَافِرِينَ - فَإِنِ انْتَهُوا مِانَ اللهَ غَفُورُ حِيمٌ وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ فَإِنِ انْتَهَوا فَلَا ترحیم - وفات نے والا اللہ کی راہ میں ان سے بولتے ہیں تم سے اور زیادتی مت کرو اللہ نہیں چاہتا زیادتی والوں کو اور ارو انک میں جگہ پاؤ۔اور نکال دو انکو جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا اور دین بھلانا مارنے سے زیادہ ہے اور نہ لڑو