فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 100
1۔نے بنی حارث اور بنی نجران کے بڑے استقف اور اساقفہ کو اور اُنکے مُریدوں اور راہبوں کو بایں مضمون نامہ لکھا۔کہ ہر چیز قلیل و کثیر جس حیثیت سے اب تمہارے کنائس اور خانقاہوں میں ہے۔اُسی حیثیت سے وہ تمہارے پاس ہیں اور تم سے اسی طرح کام میں لاؤ جس طرح اب لاتے ہو۔خود خداوند عالم اور اس کا رسول عہد کرتا ہے کہ کوئی انصف اعظم اپنی عملداری سے اور کوئی راہب اپنی خانقاہ سے اور کوئی اسقف اپنے عہدے سے برخاست نہ کیا جاویگا۔اور انکی حکومت اور حقوق میں کچھ تغیر و تبدل نہ کیا جائیگا۔اور نہ اس بات میں کچھ تغیر کیا جا ویگا جو اُن میں مرسوم و مروج ہو۔اور رجب تک و صلح و تدین کو اپنا شعار رکھیں گے۔اُن کو کسی قسم کا جور نہیں کیا جاونگا۔ندوہ کسی پر جور و ظلم کرنے پائیں گے۔جس زمانے میں آنحضرت صلعم مبعوث ہوئے اُس زمانے میں مختلف قوموں کے باہمی فرائض کو کوئی جانتا بھی نہ تھا کہ ایک قوم کودوسری قوم سے کیا سلوک کرنا چاہیئے۔یہ مختلف قومیں یا بیلے باہم لڑتے بھڑتے تھے، تو نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ ضعیف آدمی تہ تیغ بے دریغ کئے جاتے اور بے گناہ لونڈی غلام بنائے جاتے اور قوم فاتح قوم مفتوح کے معبودوں لینے بتوں کو لوٹ لیجاتی تھی۔تیرہ سو برس کے عرصے میں رومیوں نے ایک ایسا سلسلہ قوانین اختراع کیا تھا۔جو وسیع بھی تھا اور مضامین عالیہ سے مملو بھی تھا۔مگر اس اخلاق اور اُس انسانیت و مروت کو جو ایک قوم کو دوسری قوم سے کرنی چاہیئے۔رومی خاک بھی نہیں سمجھتے تھے۔وہ فقط اس غرض سے لڑائیاں لڑتے تھے۔کہ گرد و نواح کی قوموں کو مغلوب و مقہور کریں۔انکے نزدیک عہد و پیمان کا نقض کر دینا کچھ بڑی بات نہ تھی۔بلکہ مصالح وقت پر مبنی تھی۔دین مسیحی کے جاری ہونے سے بھی اُن خیالات میں کچھ تغیر و تبدل نہ ہوا۔عیسائیوں کے زمانے میں کبھی لڑائی میں وہی بے رحمیاں اور وہی قتل اور لوٹ مار ہوتی تھی۔جو رومیوں کے عہد میں ہوتی تھی۔اور فاتحین مفتوحین کو بلا تکلف لونڈی غلام بنا ڈالتے تھے۔اور عہد و پیمان