فرموداتِ مصلح موعود — Page 58
۵۸ اسلامی عبادات اور مسجد میں کہ جب باقی سورتوں کا بسم اللہ الرحمن الرحیم حصہ ہے تو تم سمجھ سکتے ہو کہ سورۃ فاتحہ جو ام الکتاب اور ام القرآن ہے اس کا حصہ بھی ضرور ہوگی۔پس اس کی تلاوت سے پہلے اس آیت کو ضرور پڑھا کرو۔( تفسیر کبیر۔جلد اوّل ، سورہ فاتحه صفحه ۱۳) تیسری اور چوتھی رکعت میں صرف سوره فاتحہ پڑھی جائے جب دورکعت سے زائد کی نماز ہو تو پہلے تشہد کے بعد ایک یا دو رکعت جو وہ پڑھتا ہے ان میں صرف سورہ فاتحہ پڑھتا ہے۔قرآن کریم کی زائد آیات نہیں پڑھتا۔( تفسیر کبیر، جلد اول سوره بقره صفحه ۱۱۲ ۱۱۳) سنتیں اوران کی رکعات کی تعداد ان (فرض ) نمازوں کے علاوہ کچھ نشتیں ہوتی ہیں یعنی ایسی زائد نماز جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بالالتزام ادا فرمایا کرتے تھے۔اور گو آپ ان کو فرض قرار نہ دیتے تھے لیکن ان کی تاکید کرتے رہتے تھے۔صبح کی نماز سے پہلے دور کعتیں پڑھی جاتی ہیں۔ظہر کی نماز سے پہلے چار رکعتیں ہیں اور بعد میں بھی چار رکعتیں ہیں۔چار کی جگہ دو دو بھی پڑھی جاسکتی ہیں۔عصر کے ساتھ کوئی ایسی سنتیں نہیں ہیں۔مغرب کے بعد دورکعتیں پڑھی جاتی ہیں۔اور عشاء کے بعد دو یا چار رکعتیں پڑھی جاتی ہیں۔( تفسیر کبیر، جلد اول بقره صفحه ۱۱۴)