فرموداتِ مصلح موعود — Page 51
۵۱ اسلامی عبادات اور مسجد میں شامل ہولیکن اگرا سے معلوم نہ ہو سکے کہ یہ کون سی نماز ہورہی ہے تو وہ امام کے ساتھ شامل ہو جائے۔اس صورت میں اس کی عشاء کی نماز ہو جائے گی۔مغرب کی نماز وہ بعد میں پڑھ لے۔یہی صورت عصر کے متعلق ہے۔اس موقع پر عرض کیا گیا کہ عصر کے بعد تو کوئی نماز جائز ہی نہیں پھر اگر عدم علم کی صورت میں وہ عصر کی نماز میں شامل ہو جاتا ہے تو اس کے لئے کس طرح جائز ہوسکتی ہے۔حضور نے فرمایا یہ تو صحیح ہے کہ بطور قانون عصر کے بعد کوئی نماز جائز نہیں مگر اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ اگر اتفاقی حادثہ کے طور پر کوئی ایسا واقعہ ہو جائے تو پھر بھی وہ بعد میں ظہر کی نماز نہیں پڑھ سکتا۔ایسی صورت میں اس کے لئے ظہر کی نماز عصر کے بعد جائز ہوگی۔میں نے خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے یہ مسئلہ سُنا ہے اور ایک دفعہ نہیں دو دفعہ سُنا ہے۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے جب دوبارہ اس کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا میں اس کے متعلق وضاحت کر چکا ہوں کہ ترتیب نماز ضروری چیز ہے۔لیکن اگر کسی کو معلوم نہ ہو سکے کہ امام کون سی نماز پڑھا رہا ہے، عصر کی نماز پڑھا رہا ہے یا عشاء کی نماز پڑھا رہا ہے تو وہ امام کے ساتھ شامل ہو جائے جو امام کی نماز ہوگی وہی اس کی نماز ہو جائے گی اور بعد میں وہ اپنی پہلی نماز پڑھے۔مولوی محمد الدین صاحب کی اس بارہ میں جو روایت شائع ہوئی ہے یا تو غلط فہمی پرمبنی ہے یا کسی اور سے انہوں نے سُنا ہے اور ذہن میں رہ گیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سُنا ہے۔الفضل ۲۷ جون ۱۹۴۸ء۔فرموده ۱۴ جون ۱۹۴۸ء بمقام کوئٹہ ) سیرت حضرت مولانا شیر علی صاحب صفحه ۱۶۰ تا ۱۶۳) نمازمیں صفیں سیدھی رکھو بعض باتیں چھوٹی نظر آتی ہیں لیکن ہوتی بہت بڑی ہیں اور ان سے بڑے بڑے فوائد حاصل کئے جاسکتے ہیں۔بس ان چیزوں کو چھوٹا سمجھ کر نظر انداز نہیں کر دینا چاہئے بلکہ ان کے فوائد کو مدنظر رکھ کر ان