فرموداتِ مصلح موعود — Page 50
اسلامی عبادات اور مسجد میں نیت نماز انسان نماز کو خدا تعالیٰ کے لئے خاص کر دے۔اور جب پڑھنے لگے تو اسے یہی خیال ہو کہ میں یہ نماز خدا تعالیٰ کی خاطر اور اس کے قرب اور وصال اور دیدار کی خاطر پڑھتا ہوں اور یہ اصل نیست (ہے)۔ور نہ یہ نیت نہیں کہ چار رکعت فرض نماز ظہر۔ترتیب نماز ضروری ھے الفضل ۲۴؍ دسمبر ۱۹۴۱ء۔خطبہ جمعہ ) اگر امام عصر کی نماز پڑھارہا ہو اور ایک ایسا مخلص مسجد میں آجائے جس نے ابھی ظہر کی نماز پڑھتی ہو یا عشاء کی نماز ہورہی ہو اور ایک ایسا شخص مسجد میں آجائے جس نے ابھی مغرب کی نماز پڑھنی ہو اسے چاہئے کہ وہ پہلے ظہر کی نماز علیحدہ پڑھے اور پھر امام کے ساتھ شامل ہو یا مغرب کی نماز پہلے علیحدہ پڑھے اور پھر امام کے ساتھ شامل ہو۔جمع بین الصلاتین کی صورت میں بھی اگر کوئی شخص بعد میں مسجد میں آتا ہے جبکہ نماز ہورہی ہو تو اس کے متعلق بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہی فتویٰ ہے کہ اگر اسے پتہ لگ جاتا ہے کہ امام عصر کی نماز پڑھا رہا ہے تو اُسے چاہئے کہ وہ پہلے ظہر کی نما ز علیحدہ پڑھے اور پھر امام کے ساتھ شامل ہو۔اسی طرح اگر اسے پتہ لگ جاتا ہے کہ امام عشاء کی نماز پڑھا رہا ہے تو وہ پہلے مغرب کی نماز کو علیحدہ پڑھے اور پھر امام کے ساتھ شامل ہو لیکن اگر اسے معلوم نہ ہو سکے کہ یہ کون سی نماز پڑھی جا رہی ہے تو وہ جماعت کے ساتھ شامل ہو جائے۔ایسی صورت میں وہی نماز اس کی ہو جائے گی۔بعد میں وہ اپنی پہلی نماز پڑھ لے۔مثلاً اگر عشاء کی نماز ہورہی ہے اور ایک ایسا شخص مسجد میں آجاتا ہے جس نے ابھی مغرب کی نماز پڑھنی ہے تو اگر اسے پتہ لگ جاتا ہے کہ یہ عشاء کی نماز ہے تو وہ مغرب کی نماز پہلے علیحدہ پڑھے اور پھر امام کے ساتھ