فرموداتِ مصلح موعود — Page 394
۳۹۴ متفرق جواب :۔حضرت صاحب یا کسی دوسرے بزرگ کے لئے نیاز مانی بدعت ہے۔الفضل ۱۲ر ستمبر ۱۹۱۵ء۔جلد ۳۔نمبر ۳۵ صفحه۱) سوال :۔کیا مسمریزم سیکھ کر اس کے ذریعہ علاج کر سکتا ہوں؟ جواب: مسمریزم سے علاج کا طریق سیکھنا منع نہیں ہے مگر افسوس کہ دوائیوں سے علاج کرنے والے باوجود کثرت سے مریضوں کے شفا پانے کے اپنے کام پر نازاں نہیں ہوتے مگر مسمریزم سے علاج کرنے والے اپنی ولایت کی طرف اس کام کو منسوب کرتے ہیں۔حالانکہ یہ ایک دنیا وی علم ہے اس لئے احتیاطاً واقف کاروں نے اس علم میں پڑنے سے منع کیا ہے ورنہ یہ اور علموں کی طرح ایک علم ہے اور میرے خیال میں ایک دن میں آدمی سیکھ سکتا ہے۔اس کے سیکھنے کے لئے کوئی بڑا مجاہدہ نہیں کرنا پڑتا۔سوال :۔نظر کوئی چیز ہے یا نہیں؟ الفضل ۱۵ر جولائی ۱۹۱۶ء۔جلد۴۔نمبر۳) جواب : لکھوایا۔انسان کی نظر میں ضرور اثر ہے اور احادیث سے بھی ثابت ہے اور اس کا علاج دعا ہے۔طبی طور سے بھی ثابت ہے کہ نظر میں ایک طاقت ہوتی ہے۔الفضل ۱۳ مئی ۱۹۱۶ء۔جلد ۳۔نمبر ۱۱۳ صفحه ۲) اللہ کے ذکر کے متعلق دریافت کیا جسے ضرب لگانا کہا جاتا ہے۔فرمایا:۔یہ ذکر کی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ یہ مصلحت وقت کے ماتحت ہندوستانیوں کو خدا کی توحید کا قائل کرنے کے لئے اس وقت کے بزرگان نے جاری کیا تھا کیونکہ اس وقت اس ملک میں مسمریزم کا بہت رواج تھا۔چنانچہ اب تک بھی مدراس کے علاقہ میں اس کا بہت رواج ہے۔ان لوگوں میں جب اسلامی تعلیم پیش ہوئی تو ان کے جو بزرگ تھے ان کی مثالیں لوگوں نے پیش کیں کہ وہ لوگ ایسے ایسے کمالات دکھاتے تھے اور کہ یہ باتیں ہمارے ہندو مذہب کی صداقت کے دلائل ہیں۔پس ہم ان کے مقابلہ میں اسلام کو کس طرح سچا مذ ہب سمجھ لیں۔اس وقت ان لوگوں کے مقابل پر مسلمانوں نے یہ