فرموداتِ مصلح موعود — Page 376
ان المبذرين كانوا اخوان الشيطين اور تمباکو نوشی بھی تو فضول خرچ ہی ہے۔اس کو حرام قرار دینا چاہئے؟ جواب :۔حضور نے فرمایا۔آپ بے شک حرام قرار دے دیں۔میں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فتویٰ سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔اسی کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مکروہ اور نا پسندیدہ قرار دیا ہے۔اس لئے ہم بھی اس فتویٰ کے خلاف کوئی فتویٰ نہیں دے سکتے۔آپ جانتے ہیں کہ چلتی ہوئی ریل کو یکدم روکا نہیں جاسکتا۔آہستہ آہستہ ہی اسے روکا جاسکتا ہے۔اسی طرح سگریٹ کی ریل جس میں سے دھواں نکلتا ہے آہستہ آہستہ ہی رکے گی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ سخت مضر صحت چیز ہے اور اعصاب پر اس کا بہت برا اثر پڑتا ہے لیکن اس وقت ایک رواس کی تائید میں چل رہی ہے۔اس لئے لوگ اس رو میں بہہ کر اس کا استعمال کرتے جارہے ہیں۔جب اس کے خلاف رو زیادہ طاقتور ہو جائے گی تو لوگ خود بخود اس سے نفرت کرنے لگ جائیں گے۔(الفضل ۱۵ نومبر ۱۹۶۰ء صفحه ۴) ایک سوال کے جواب میں فرمایا:۔حقہ کبھی کبھی پی سکتے ہیں حرام نہیں مکروہ ہے۔حتی الوسع پر ہیز کرنا چاہئے۔صرف Test کے لئے پی لیا کریں۔فائل مسائل دینی A-31۔10۔1958-32) چوتھی چیز جو لغویات میں شامل ہے اور جس کا ترک کرنا نہایت ضروری ہے وہ حقہ ہے۔لوگ پہلے تو اس کو اس لئے شروع کرتے ہیں کہ اس سے قبض کھل جاتی ہے مگر پھر ان کی ایسی حالت ہو جاتی ہے کہ پاخانہ میں بیٹھ کر تین تین دفعہ چلمیں بھرواتے ہیں تب انہیں اجابت ہوتی ہے اور پھر حقہ پینے والوں کو ہمیشہ گلے اور سینہ کی خرابی اور کھانسی کا عارضہ لاحق رہتا ہے کیونک جو چیز جسم کوشن کر دیتی ہے ہے وہ آخر میں اعصاب کو ڈھیلا اور کمزور کر دیتی ہے اور کئی امراض کا موجب بن جاتی ہے مگر اس زمانہ میں حقہ اور سگریٹ کا اس قدر رواج ہے کہ اکثر نوجوان بلکہ بچے بھی اس میں مبتلا دیکھے جاتے ہیں۔مگر چونکہ یہ ایک نشہ آور چیز ہے اس لئے رفتہ رفتہ وہ اس کے اس قدر عادی ہو جاتے ہیں کہ اگر ضرورت