فرموداتِ مصلح موعود — Page 288
۲۸۸ حدود پس اس اعلان کی روشنی میں احمدی اپنے پرانے طریق کو بدل لیں اور اپنے پیشے یا اپنے محکمہ کی ایسی انجمنوں میں شامل ہو جائیں جو کہ اس پیشہ یا اس محکمہ کے ملازموں کے حقوق کے لئے بنائی گئی ہیں اور اگر ایسی سٹرائک اس محکمہ یا کارخانہ کے کارکن کریں جس کو قانون منع نہیں کرتا تو بے شک اس سٹرائک میں بھی شامل ہو جائیں کیونکہ حکومت امن کی ذمہ وار ہے جب وہ ایک سٹرائک کو جائز قرار دیتی ہے تو ہمارے لئے اس کونا جائز قرار دینے کی کوئی وجہ نہیں۔خصوصا جبکہ حکومت کی پالیسی کے بنانے میں ہمارا کوئی اختیار نہیں۔میں اس مسئلہ کو ایک دفعہ جماعت کی مجلس شوری کے سامنے بھی رکھوں گا اور مجلس شوریٰ میں غور کرنے کے بعد جو فیصلہ ہوگا وہ آخری فیصلہ ہوگا مگر میں جماعت کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے از خود ہی موجودہ اعلان کر رہا ہوں۔اگر بعد میں کسی تبدیلی کی ضرورت سمجھی گئی تو وہ صیح کی جائے گی۔مرز امحمود احمد ۲۱/۸/۵۲ ( الفضل ۲۴ اگست ۱۹۵۲ء صفحه ۲) قانون شکنی کی تلقین کرنے والوں سے هم کبھی تعاون نہیں کرسکتے بعض جماعتیں ایسی ہیں جو بغاوت کی تعلیم دیتی ہیں، بعض قتل و غارت کی تلقین کرتی ہیں، بعض قانون کی پابندی کو ضروری نہیں سمجھتیں۔ان معاملات میں کسی جماعت سے ہمارا تعاون نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ ہماری مذہبی تعلیم کے خلاف امور ہیں اور مذہب کی پابندی اتنی ضروری ہے کہ چاہے ساری گورنمنٹ ہماری دشمن ہو جائے اور جہاں کسی احمدی کو دیکھے اسے صلیب پر لٹکا نا شروع کر دے پھر بھی ہمارا یہ فیصلہ بدل نہیں سکتا کہ قانون شریعت اور قانون ملک کبھی نہ تو ڑا جائے۔اگر اس وجہ سے ہمیں شدید ترین تکلیف بھی دی جائیں تب بھی یہ جائز نہیں کہ ہم اس کے خلاف چلیں۔ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ ہم اس ملک کو چھوڑ دیں اور کسی اور ملک میں چلے جائیں۔(الفضل ۶ راگست ۱۹۳۵ء صفحه ۱۰)