فرموداتِ مصلح موعود — Page 285
۲۸۵ حدود بھی لے آئے تو ان گواہوں کو بھی اور اتہام لگانے والے کو بھی اسی اسی کوڑوں کی سزادی جائے گی کیونکہ انہوں نے ایک ایسی بات کہی جس کا ان کے پاس کوئی شرعی ثبوت نہیں تھا۔کسی کا اپنے جرم کو ظاہر کرنا یا اس کا اقرار کر لینا یہ ثابت نہیں کرتا کہ وہ بڑا نیک ہے کیونکہ شریعت تو گناہ کو ظاہر کرنے سے روکتی ہے۔جب تک قاضی کے سامنے شہادت کے موقع پر اس کا بیان کرنا از روئے شریعت ضروری نہ ہو۔پس جو شخص بلا وجہ اپنی طرف بدکاری اور عیوب منسوب کرتا ہے اس کو تو شریعت شاہد عادل قرار نہیں دیتی کجا یہ کہ اس کے اقرار کوکوئی اہمیت دی جائے یا اسے اس کے تقویٰ کا ثبوت سمجھا جائے۔( تفسیر کبیر جلد ششم تفسیر سوره نور صفحه ۲۶۵) خائن کی سزانه مقرر کرنے کی وجه سوال :۔اس کی کیا وجہ ہے کہ چور کی تو یہ سزا رکھی گئی کہ اس کے ہاتھ کاٹے جائیں مگر خائن کو ایسی سزا نہیں دی گئی حالانکہ بعض اوقات خائن چور سے بھی زیادہ نقصان پہنچا دیتا ہے؟ جواب :۔یہ اس لئے کہ خائن کے متعلق اپنا اختیار ہوتا ہے۔چاہے ہم اس کے پاس اپنا مال ام کا رکھیں چاہے نہ رکھیں اور جب ایک دفعہ کسی شخص کی خیانت لوگوں پر واضح ہو جائے تو ناممکن ہے کہ کوئی دوسرا اس کے پاس پھر مال بطور امانت رکھے۔لیکن چور کے متعلق ہمارا کوئی اختیار نہیں ہوتا وہ بغیر ہمارے علم کے آتا ہے اور مال چرا کر لے جاتا ہے۔پس اس وجہ سے خائن کے لئے وہ سزا تجویز نہیں کی گئی جو چور کے لئے رکھی گئی ہے کیونکہ چور پر ہمارا اپنا اختیار نہیں ہوتا انسان بے بس ہوتا ہے اور لاعلمی میں اس کا مال چرالیا جاتا ہے۔لیکن خائن کے متعلق دنیا کو علم ہو جاتا ہے که یہ امین نہیں۔اس لئے جب یہ علم ہو جاتا ہے تو کوئی شخص اس کے پاس امانت رکھنے کے لئے تیار نہیں ہوتا اور اگر رکھے تو یہ اس کا اپنا قصور ہو گا۔پس چونکہ ان دونوں میں فرق ہے اس لئے سزا بھی علیحدہ رکھی گئی۔الفضل ۳۰ / مارچ ۱۹۳۱ء - جلد ۱۸۔نمبر۱۱۳)