فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 259 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 259

۲۵۹ دیا گیا تھا کہ وہ اس بارہ میں طبی شہادت پیش کرے۔مگر انہوں نے کہا کہ میں اس شرط پر سرٹیفیکیٹ پیش کر سکتا ہوں کہ قاضی صاحب یہ مان لیں کہ پھر ضرور میری بیوی کو میرے گھر پر بھیج دیا جائے گا۔قاضی اول نے جائز طور پر کہا کہ آپ کا کام شہادت پیش کرنا ہے۔فیصلہ کرنا قاضی کا کام ہے مگر انہوں نے سرٹیفیکیٹ پیش نہیں کیا لہذا اپیل مسترد کیا جاتا ہے۔مگر اس موقع پر میں قاضیوں کو پھر ایک دفعہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ طلاق یا خلع کے مقدمات میں پورا زور صلح پر لگانا چاہئے تا کہ جماعتی اخلاق بگڑ نہ جائیں۔قضائی فیصلہ بصورت مجبوری لیا جاوے۔(فائل فیصلہ جات نمبر ۲۔صفحہ ۴۲۔دارالقضاء، ربوہ ) عدت عدت کے سوال میں میرے نزدیک بہت پیچیدگی ڈالی گئی ہے۔مرد سے حیض کا ثبوت مانگنا نہایت نا واجب بات ہے اور دایہ کا مقرر کرنا خلاف شریعت ہے کیونکہ ستروں کا ظاہر کرنا صرف خاص حالات، بیماری وغیرہ میں جائز ہوتا ہے۔مالی مطالبات کے فیصلہ کے لئے ستر کا ظاہر کرنا ہر گز جائز نہیں۔پس اس طریق کو میں اسلامی شعار کے بالکل خلاف سمجھتا ہوں گو کسی فقیہ یا بہت سے فقیہوں نے ہی کیوں نہ ایسا لکھا ہو۔میرے نزدیک اس کے فیصلہ کے لئے بھی وہی طریق رکھنا چاہئے جو شریعت کا عام فیصلوں کے لئے ہے۔یعنی مدعی سے بعینہ ( گواہ ) طلب کیا جائے یا عورت کو حلف (قسم) دیا جائے گو یہ حلف شرعی ہونی چاہئے یعنی قاضی کی موجودگی میں بعد از پند و نصیحت و تذکیر۔عدت ، حلف نہ اُٹھانے کی صورت میں تین ماہ تک سمجھی جائے گی ورنہ دودھ پلانے کے عرصہ تک کیونکہ دودھ پلانے کے بعد اگر حیض نہیں آتا تو وہ ایک قسم کی بیماری خیال کی جاوے گی۔(فائل فیصلہ جات خلیفہ وقت نمبرا۔صفحہ ۴۷۔دارالقضاء، ربوہ) ☆☆☆