فرموداتِ مصلح موعود — Page 233
۲۳۳ نکاح قویٰ تو مضبوط ہوتے ہیں اور اس صورت میں وہ دو یا دو سے زیادہ عورتیں کر سکتے ہیں مگر الگ الگ مکان بیویوں کے لئے نہیں بنا سکتے۔حالانکہ شریعت یہ کہتی ہے کہ بیویوں کے لئے علیحدہ علیحدہ مکان ہونے چاہئیں۔ہماری شریعت میں اس قسم کے جھگڑے بہت ہوتے ہیں کہ مرد اپنی بیویوں کے لئے علیحدہ علیحدہ مکان نہیں بنواتے تو ان معنوں کی رو سے جومیں نے عدل کے کئے ہیں سوا میں سے کوئی ہی ہوگا جو ایک سے زیادہ شادیاں کر سکتا ہے۔خطبات محمود، جلد ۳ صفحه ۴۷ ، ۴۸) بیوی کومارنا گالی دینا درست نھیں یہاں عام طور پر عورتیں شاکی ہیں کہ خاوند گالیاں دیتے ہیں۔گالی دینا کمزوری اور بزدلی کی علامت ہے۔بعض وجوہات سے اللہ تعالیٰ نے مرد کو عورت پر حاکم بنایا ہے لیکن یونہی مارنا پیٹنا اور گالیاں دینا جائز نہیں۔گالیاں تو کسی صورت میں جائز نہیں۔مارنا بھی مجبوری کے وقت جب عورت کھلی کھلی بے حیائی کرے وہ بھی اتنا کہ جسم پر نشان نہ پڑے۔عورتوں سے رافت اور حسن سلوک کا حکم ہے۔الفضل ۲۲ ستمبر ۱۹۲۱ء - جلد ۹ نمبر ۲۳ صفحه ۸) میاں بیوی کے حقوق سوال :۔میرا خاوند کسی غیر ملک میں بغرض ملازمت جاتا ہے اور مجھے بھی ساتھ جانے کے لئے مجبور کرتا ہے؟ جواب :۔عورت کو خاوند کی اطاعت ضروری ہے چلے جائیں۔الفضل ۲۷ / جولائی ۱۹۱۵ء - جلد ۲۳ نمبر ۱۵ صفحه۱ )