فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 221 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 221

حضور کا کیا ارشاد ہے؟ ۲۲۱ نکاح حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا :۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تو صرف دف بجائی جاتی تھی۔گھڑا بجانے کے متعلق مجھے کوئی ذاتی واقفیت نہیں لیکن میر ناصر نواب صاحب چونکہ وہابی تھے اس لئے گھڑا بجانا وہ بہت برا سمجھتے تھے۔حدیثوں میں صرف دف کا ذکر آتا ہے۔الفضل ۲۰ جنوری ۱۹۴۵ ء - جلد ۳۳ نمبر ۱۸ صفحه ۴ ) سوال :۔ایک شخص نے حضرت صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ ہمارے ملک میں عورتیں ایسے گیت گاتی ہیں جن میں صرف دولہا دلہن کی باتیں ہوتی ہیں، ان کے متعلق کیا ارشاد ہے؟ جواب :۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔شادی کے موقع پر کوئی گیت گا لیں تو گناہ نہیں بشرطیکہ اس میں فحش اور لغو بکواس نہ ہو اور بے حیائی سے نہ گایا جائے۔الفضل ۲۰ جولائی ۱۹۱۵ء۔جلد ۳ - نمبر ۱۲ صفحه ۲) حکم ہے کہ تقویٰ سے کام لومگر سنا ہے کہ لوگ خصوصاً عورتیں اس موقع پر گالیاں دیتی ہیں اور مخش گیت گاتی ہیں جس سے دل پر زنگ لگتا ہے۔( الفضل ۷ار فروری ۱۹۲۱ء) شادی کے موقع پرفلمی گانے یہ بھی ایک عیب ہوتا ہے کہ لوگوں کو ایک رونی جماعت بنادیا جائے اور حسن مذاق کا کوئی رنگ ان میں دکھائی نہ دے۔لیکن جہاں اس قسم کے ہلکے مذاق اور پاکیزہ گانوں میں کوئی حرج نہیں وہاں اس گند کی بھی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ فلمی گانے جو نہایت ہی گندے اور غلیظ اور فطرت انسانی کومسخ کر دینے والے ہوتے ہیں وہ شادی بیاہ کے موقع پر گائے جائیں اور چوڑھیاں اور میراثنہیں نچوائی